30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آتا ضرور اتنے حصے کا استثناء فرمادیتا ، پھر صاحبِ شرع صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے عملا اُس کا بے نقص و بے خلل ہونا فرمادیا۔ صحیحین میں ام المومنین عائشہ صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے ہے:
|
ان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کان یدرکہ الفجر وھو جنب من اھلہ ثم یغتسل و یصوم[1]۔ |
رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم ازواجِ مطہرات سے قربت فرماتے اور صبح ہوجاتی جب تك نہ نہاتے اس کے بعد غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔ |
صحیح مسلم ومؤطامالك و سُنن ابی داؤدو نسائی میں اُمّ المو منین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے ہے:
|
ان رجلا قال لرسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو واقف علی الباب وانا اسمع یا رسول اﷲانی اصبح جنبا وانا ارید الصیام فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانا اصبح جنبا وانا ارید الصیام فاغتسل واصوم فقال الرجل یا رسول اﷲانك لست مثلنا قد غفراﷲلك ما تقدم وماتا خرفغضب رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وقال انی ارجوان اکون اخشٰیکم ﷲ اعلمکم بما اتقی[2]۔ |
یعنی حضور پُر نور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے دراوزہ اقدس کے پاس کھڑے تھے ایك شخص نے حضور سے عرض کی اور میں سُن رہی تھی کہ یارسول اﷲ! میں صبح کو جنب اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا میں خود ایسا کرتا ہُوں اُس نے عرض کی حضور کی ہماری کیا برابری، حضور کو تو اﷲعزوجل نے ہمیشہ کے لیے پُوری معافی عطا فرمادی ہے۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم غضب ناك ہُوئے اور فرمایا: بیشك میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے تم سب سے زیادہ اﷲعزوجل کاخوف ہے اور میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں جن جن باتوں سے مجھے بچنا چاہئے۔ |
اس حدیث صحیح نے خوب واضح فرمادیا کہ اس سے روزہ میں کوئی نقص نہیں آتا ورنہ وہ صاحب سائل تھے محل بیان میں سکوت نہ فرمایا جاتا، سکوت کیسا اخیر کے ارشاد نے اور بھی روشن فرمادیا کہ اس میں کوئی بات خوف کی نہیں، نہ یہ اس میں داخل جس سے بچنا چاہئے۔ اور پُر ظاہر کہ روزہ غیر متجزی ہے جو چیز اس میں نقص پیدا کرے گی اگر سارے روزے میں ہُوئی تو موجبِ نقص ہوگی اور اس کے اوّل یا آخر کسی لطیف حصہ میں ہوئی تو ضرر دے گی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع