30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
متجردان ویمس فرجہ فرجہا بل قال فی الذخیرۃ ان ھذا مکروہ بلا خلاف لانہ یفضی الی الجماع غالبا اھ وبہ علم ان روایۃ محمد بیان لکون مافی ظاھرالروایۃ ومامر عن النھر لیس مما ینبغی ثم رأیت فی التتار خانیۃ عن المحیط، التصریح بما ذکرتہ من التوفیق بین الروایتین وانہ لافرق بینھما وﷲ الحمد اھ١ [1]باختصار وفی الدر، الضابط وصول مافیہ صلاح بدنہ لجوفہ ومنہ ریق حبیبہ فیکفرلوجود معنی صلاح البدن فیہ، درایۃ، وغیرہا [2] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کہ مردعورت دونوں معانقہ کریں اس حال میں کہ دونوں ننگے ہوں اور مرد کا فرج خاتون کی شرمگاہ کو مس کررہاہو، بلکہ ذخیرہ میں یہ کہا ہے کہ ایسا عمل بالاتفاق مکروہ ہے کیونکہ یہ غالبًا جماع کا سبب بن جاتا ہے اھ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ امام محمد کی روایت ظاہر روایت کا بیان ہے اور جو کچھ نہر کے حوالے سے گزراوُہ مناسب نہیں، پھر میں نے تتارخانیہ میں محیط سے اس پر تصریح دیکھی جو میں نے دونوں روایات میں مطابقت دیتے ہوئے ذکر کی ہے کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں وﷲالحمد اھ اختصارًا در میں ہے غذا اور دوا کی شناخت کا ضابطہ یہ ہے پیٹ میں ایسی شئی کا پہنچ جانا جو بدن کی اصلاح کا سبب ہو(وہ غذا یا دوا کہلاتی ہے) محبوب کا لعابِ دہن اسی قبیل سے ہے، اگر کوئی نگل جائے تو ایسی صورت میں چونکہ اصلاحِ بدن موجود ہے لہذا وہ کفارہ اداکرے جیسا کہ درایۃ وغیرہ میں ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔ (ت) |
(۲) نہ۔ اگرچہ باربار بتکرار دیکھے، یہاں تك کہ دیکھنے ہی کی حالت میں بے چُھوئے انزال ہوجائے، ہاں اس صورت میں کراہت ضرور ہے،
|
فی الدرالمختار انزل بنظر ولوالی فرجھا مرارا لم یفطر[3]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے اگر انزال ہوجائے نظر کرنے سے اگر چہ عورت کی شرمگاہ کی طرف نظر مکرر ہو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع