30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
شیخ فانی کی عمر اسّی یا نوّے سال لکھی ہے اور حقیقۃً بنائے حکم اس کی حالت پر ہے اگر سَو برس کا بوڑھا روزہ پر قادرر ہے شیخ فانی نہیں اور اگر وہ ستّر برس میں بوجہ ضعف بیّنہ بڑھاپے سے ایسا زار ونزار ہوجائے کہ روزہ کی طاقت نہ رہے تو شیخ فانی ہے۔ غرض شیخ فانی وُہ ہے جسے بڑھاپے نے ایسا ضعیف کردیا ہو، اور جب اُس ضعف کی علّت بڑھاپا ہوگا تو اُس کے زوال کی اُمید نہیں اُسے روزے کے عوض فدیہ کا حکم ہے باقی نماز و طہارت کے بارہ میں پیر جوان سب کا ایك حکم ہے، جو جس وقت جس حالت میں جتنی بات سے معذور ہوگا بقدر ضرورت تا وقت اُسے تخفیف دی جائے گی قال تعالٰی لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ[1] (اﷲتعالیٰ کا مبارك فرمان ہے اﷲہر کسی کو اس کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم
__________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع