30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذکر کرکے کہا اس سے زیادہ قرض لے تو ہربار میں زیادہ ساقط ہو،
|
ویشمل کل ذلك وما سواہ مافی منۃ الجلیل ومماتعارفہ الناس ونص علیہ اھل المذھب ان الواجب اذاکثر اداروا صرۃ مشتملۃ علی نقوداوغیرھا کجواھراوحلی اوساعۃ وبنواالامر علی اعتبار القیمۃ الخ[1]۔ |
یہ تمام کو شامل ہے، اس کے علاوہ جو منۃ الجلیل میں ہے کہ جو لوگوں کے ہاں معروف ہے اسی پر اہلِ مذہب نے تصریح کی کہ جب واجب کثیر ہوں تو ایك تھیلی میں نقدی وغیرہ مثلًا جواہر، ہار، زیور ڈال کر دَور کریں تو فقہاء نے قیمت کا اعتبار کیا ہے الخ (ت) |
یہ سب واضحات ہیں اور ہر فہیم بعد ادراك حساب حتی المقدور تخفیف دَور کرسکتا ہے یہاں تك کہ اگر ممکن ہو کہ جس قدر اموال تمام فدیوں ،کفاروں، مطالبوں کی بابت محسوب ہوئے سب دفعۃً تھوڑی دیر کے لیے کسی سے قرض مل سکیں تو دَور کی حاجت ہی نہ رہے گی کہ کوئی شے اُتنے اموال کے عوض فقیر کے ہاتھ بیچے ،اوراگر کفار ہ قسم بھی شامل ہے تو دس کے ہاتھ۔ پھر وُہ اموال قرضہ گرفۃ فدیہ میں دے کر شئی مبیع کو ثمن میں لے لے اور حسبِ مقدرت فقراء کو کچھ دے کر اُن کا دل خوش کر دے، ہنوز اس مسئلہ میں بہت تفاصیل باقی ہیں کہ بخیال طول ان کے ذکر سے عنان کشی ہوئی۔ واﷲتعالیٰ اعلم
(٩) دینے والے کی نیت کافی ہے لفظ کی حاجت نہیں،
|
کما صرحوابہ فی الزکوٰۃ وقال العلامۃ السید الحموی فی شرح الاشباہ والنظائر العبرۃ لنیۃ الدافع لالعلم المدفوع الیہ اھ٢[2] و فی ردالمحتار لا اعتبار للتسمیۃ الخ [3]و قد فصلناہ فی زکوٰۃ فتاوٰنا۔ |
جیسا کہ مسئلہ زکوٰۃ میں اس کی تصریح موجود ہے علامہ سیّد حموی نے شرح الاشباہ والنظائر میں فرمایا دینے والے کی نیت کا اعتبار ہے، اسے معلوم ہونا ضروری نہیں جسے دی جارہی ہواھ ردالمحتار میں ہے زبان سے نام لینے کا اعتبار نہیں الخ ہم نے اس کی پُوری تفصیل اپنے فتاوٰی کے کتاب الزکوٰۃ میں دی ہے۔(ت) |
مگر زبان سے بھی کہہ دینے کو علماء مناسب بتاتے ہیں یہاں تك کہ طریقہ ادا میں میّت کے باپ دادا تك کا نام لینا فرماتے ہیں کہ مسکین سے کہا جائے یہ مال تجھے فلاں بن فلاں کے اتنے روزوں یا اتنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع