30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان ہزاروں لاکھوں بار کے ہیر پھیر کی دقّت دیکھئے اور اس ہندی طریقہ کی سہولت کہ ایك ہی دفعہ میں اُس کے اور اس کی سات٧ پشت کے تمام انواع واقسام کے فدیے، کفارے ، مواخذے دو حرف کہنے میں معًا ادا ہوسکتے ہیں تو اوّل تا آخر تمام علمائے مذہب کا اس کلفت کے اختیار اور اس سہولت کے ترك پر اتفاق قرینہ واضحہ ہے کہ اُن کے نزدیك اُس آسانی کی طرف راہ نہ تھی ورنہ اسے چھوڑ کر اس مشقت پر اطباق نہ ہوتا بالجملہ دین سے فدیہ ادا کرنے کی دو٢ صورتیں ہیں:
ایك وہ کہ درمختار کتاب الوصایا عبارت مذکورہ سابقًا میں ذکر فرمائی کہ مدیون سے دین وصول کرکے بعد قبضہ پھر اسے فدیہ میں دے دے۔
دوسری وُہ کہ درمختار کتاب الزکوٰۃ میں مذکور ہُوئی کہ مال فدیہ میں دے کر آتے میں واپس کرے اگرمدیون نہ دینا چاہے ہاتھ بڑھا کرلے لے کہ اپنا عین حق لیتا ہے،
|
حیث قال وحیلۃ الجوازان یعطی مدیونہ الفقیر زکوٰتہ ثم یا خذھا عن دینہ ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان ما نعہ رفعہ للقاضی[1]۔ |
اس کے الفاظ یہ ہیں مال موجود کی زکوٰۃ دَین سے ادا کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ فقیر مقروض کو اپنی زکوٰۃ حوالہ کردے پھر اس سے دَین کے عوض زکوٰۃ کی رقم واپس لے لے ،اگر مقروض نہ دے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر چھین لے کیونکہ یہ اسے اس کے حق کی جنس ملی ہے پھر اگر مدیون فقیر مزاحمت کرے تو اس کو قاضی کے پاس لے جائے کہ وہ اس سے دِلوادے گا۔(ت) |
اسی طرح ذخیرہ و ہندیہ واشباہ وغیرہا میں ہے باقی یہ صورت کہ جو دَین فقیر پر آتا تھا یا اب اس کے ہاتھ کچھ بیچ کر مدیون کرلیا یہ فدیہ میں چھوڑدیا جائے اس کے جواز کا پتا کلماتِ علماء سے اصلًا نہیں چلتا بلکہ ظاہر عدم جواز مفہوم ہوتا ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ جب تك مشائخ مذہب سے اُس کے جواز کے پتے کی تصریح نہ ملے ایسے امر پر اقدام نہ کیا جائے ھذاماظھر لی والعلم بالحق عند ربی (یہ مجھ پر ظاہر ہُوا ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت)
فائدہ: علماء نے حتی الامکان تقلیل دورپر نظرفرمائی ہے، علامہ شمس قہستانی نے تین صاع سے دَور فرض کیا کہ ہر بار میں ایك دن کامل کی نماز ادا ہو۔ احکام الجنائز میں چار ہزار بہتّر٤٠٧٢ درہم سے دَور رکھا کہ اُن اعصار وامصار کے حساب سے ہردَور میں ایك سال کی نماز کا فدیہ ہو۔ ردالمحتار میں دَور یك سالہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع