30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
خمسۃ وستین یوما کما فعل فی احکام الجنائز قائلا ینبغی ان تحسب فدیۃ الصلوٰۃ بالسنۃ الشمسیۃ اخذاباحتیاط من غیر اعتبار ربع الیوم اھ[1] فان سن العمراذا حسبت بالقمر یات علمنا قطعا ان الایام لاتزید علی مانحسب، والمقطوع بہ لا یحتاج الی الاحتیاط فان قیل لعلھم اخذ واالزائد لیقع عمایؤد عنہ من الصلوات التی عسٰی ان یکون المیت فرط فیھا قلت قالوابعد ذٰلك ثم یحسب سن المیت فیطرح منہ اثنا عشرۃ سنۃ لمدۃ بلوغہ ان کان المیت ذکراوتسع سنین ان کانت انثی الخ[2] کمافی احکام الجنائز ایضافا ذا اتواعلی جمیع العمر فماذاعسٰی ان یکون شاذا یحتاط لہ۔ |
نہیں جیسا کہ احکام جنائز میں یہ کہتے ہوئے لیا گیا ہے کہ فدیہ نماز میں احتیاطًا شمسی سال کا اعتبار کرنا چاہئے ماسوائے دن کے چوتھائی حصّہ کے اھ۔کیونکہ جب عمر کے سالوں کا اعتبار چاند کے اعتبار سے ہے تو یقینا دن ہمارے حساب سے زائد نہ ہوں گے اور یقینی بات میں احتیاط کی محتاجی نہیں ہوتی، اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے زائد دن اس لیے لئے ہیں شاید میّت نے بعض نمازوں میں کوتاہی کی ہو تو اس کا فدیہ ہوجائے قلت اس کے بعد فقہاء نے فرمایا ہے پھر میّت کی عمر شمار کی جائے اس سے بلوغ کی مدّت بارہ سال خارج کردی جائے اگر وہ مذکر ہو، اور اگر مؤنث ہے تو نو سال خارج کی جائے الخ جیسا کہ احکامِ جنائز میں بھی ہے تو جب وہ ساری عمر کی بات کررہے ہیں تو اس سے خارج کوئی نہیں رہا جس کے لیے احتیاط کی ضرورت ہو۔(ت) |
تویہی تین سو پچپن کافی ہیں پس ایك سال کی نمازوں کے دوہزار ایك سوتیس (٢١٣٠) فدیے ہُوئے ، اور تیس٣٠ فدئیے یعنی فدیے رمضان المبارك کے ملا کر دوہزار ایك سوساٹھ ٢١٦٠، انہیں ساٹھ میں ضرب دینے سے ایك لاکھ انتیس ہزار چھ سو(١٢٩٦٠٠)ہوتے ہیں، اتنی بار وارث و فقیر میں تصدّق و ہبہ کی اُلٹ پھیر ہونی چاہئے تو فدیہ ادا ہو، یہ صرف صوم و صلٰوۃ کا فدیہ ہُوا اور ہنوز اور بہت فدیے و کفارے باقی ہیں مثلًا (٣) زکوٰۃ فرض کیجئے ہزاروں روپے زکوٰۃ کے اس پر مجتمع ہوگئے تھے اور نیم صاع کی قیمت دو٢ آنے ہے تو آٹھ ہزار دور بہ نیت زکوٰۃ دینے لینے کو درکار ہیں (٤) قربانیاں، اگر فی قربانی ایك ہی روپیہ قیمت رکھئے تو ساٹھ٦٠ قربانیوں کے لیے چار سو اسی٤٨٠ دور ہوں۔(٥)قسموں کے کفارے ، ہر قسم کے لیے دس مسکین جدا جدا درکار ہیں ایك کو دس بار دینا کافی نہ ہوگا(٦) ہر سجدہ تلاوت کے لیے بھی احتیاطًا ایك فدیہ مثل ایك نماز کے ادا چاہئے وان لم یجب علی الصحیح کما
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع