30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں کلھم فی الصوم (ان سب نے کتاب الصوم میں یہ مسئلہ ذکر کیا ہے۔ت) اسی کو علامہ عبد الغنی بن اسمٰعیل نابلسی قدس سرہ القدسی نے شرح ہدایہ ابن العمار میں اپنے والد ماجد علّامہ اسمٰعیل بن عبدالغنی نابلسی محشی درر وغرر انہوں نے احکام الجنائز سے نقل فرمایا کما فی منحۃ الخالق ( جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے۔ت) اسی پر امام اجل ناصر الدین ابو القاسم محمد بن یوسف حسینی سمر قندی نے ملتقط میں نص فرمایا کما فی شرح مختصر الوقایۃ عبد العلی(جیسا کہ شرح مختصر الوقایہ عبد العلی میں ہے۔ت) اسی طرح علّامہ مدقّق علائی نے در منتقی شرح ملتقی اور علّامہ شریف ابوالسعود ازہری نے شرح نورالایضاح میں تصریح فرمائی کما فی شرحہ للسّیداحمد المصری( جیسا کہ سیّد احمد مصری کی شرح میں ہے۔ت) یہی تبیین المحارم ، علامہ سنان الدین یوسف مکی میں مذکور کما فی شفاء العلیل و بل العلیل للعلامۃ الشامی( جیساکہ شفاء العلیل وبل العلیل للعلامۃالشامی میں ہے۔ت) یہ سب عبارات اور ان سے زائد اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں بلکہ شفاء العلیل سے ہمارے ائمہ کی کتبِ فروع و اصول کی طرف اس کی نسبت ظاہر۔
|
حیث قال اعلم المذکورفیما رأیتہ من کتب ائمتنا فروعا واصولا انہ اذالم یوص بفدیۃ الصوم یجوز ان یتبرع منہ ولیہ وھو من لہ التصر ف فی مالہ بوراثۃ او وصایۃ قالو اولولم یملك شیأ ایستقرض الولی شئیا فید فعہ للفقیر ثم یستو ھبہ منہ ثم یدفعہ لاخروھکذا حتی یتم[1]۔ |
اس کے الفاظ یہ ہیں میرے مطالعہ کے مطابق ہمارے ائمہ کی کتب خواہ فروع یا اصول میں ہوں یہ مذکور ہے کہ جب میت نے فدیہ صوم کی وصیت نہ کی ہوتو اس کا ولی بطور نفل فدیہ دے سکتا ہے، اور ولی سے مراد وہ شخص ہے جواس کے مال میں بطور وارث یا وصی ہونے کے ناطہ سے تصرف کر سکتا ہو، فقہاء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ولی کسی شئے کامالك نہ ہو تو کسی سے قرض لے کر فقیر کو دے اس سے بطور ہبہ واپس لے پھر فقیر کو دے،اسی طرح باربار کیا جائے حتی کہ فدیہ پُورا ہوجائے۔(ت) |
اور فاصل سیّد علا ءُ الدین شامی نے منۃ الجلیل میں اسے متون و شروح و حواشی کی طرف نسبت کیا
|
حیث قال والمنصوص فی کلامھم متونا و شروحا وحواشی ان الذی یتولی |
اس کی عبارت یہ ہے متون، شروح اور حواشی میں یہ منصوص ہے یہ سارا کچھ ولی کر سکتا ہے، اور ولی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع