30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مصحفے را بمثل آنقدر زربد ست فقیرے فروشند وتسلیم نمایند تا آنقدر زر بر ذمہ اش دین شود پس بگویند کہ ایں قدر زر را کہ بر ذمہ تو دین ست عوض فدیہ نماز وروزہ ہائے فلاں میّت کہ بایں قدر می رسد ترادادیم وبگوید فلاں کردیم واگر مبلغ حساب بکنند وقرآن را بمثل آں را عوض فدیہ بوے بخشند داد قبول نماید نیز کفایت می کنند[1]۔ |
دے دی جائے، اگر تنگ دستی ہوتو ایك مصحف کو اس مقدار کے زر پر کسی فقیر کو فروخت کردیں اور یہ اس کے ذمّہ دین کردیں اس کے بعد اسے کہیں کہ تیرے ذمّہ جو دین آیا ہے یہ فلاں کی نماز اور روزوں کا فدیہ میں نے تجھے دیا ہے وہ فقیر کہ اسے قبول کرتا ہو، اگر قیمت کا حساب نہ کریں اور قرآن کو اس کی مقدار جنس کے ساتھ ہدیہ کریں تاکہ یہ جنس اس کے ذمّہ ہوجائے اور اسے فدیہ کے عوض بخش دیں اور وُہ قبول کرے تو یہ بھی کفایت کر جائے گا(ت) |
اہرًا محض ناتمام و ناکافی ہے اور اس پر ایك قرینہ واضحہ یہ بھی ہے کہ عامہ کتب معتمدہ مذہب میں ضرورتمند کے لیے جو حیلہ اس کا ارشاد فرمایا سخت دقت طلب اور بہت طول عمل ہے جس کا خود ان فاضل کو اعتراف ہے، یہ متعارف طریقہ ذکر کرکے لکھا:
|
ومشہور و منقول دراکثر کتب چنانست کہ قدرے گندم کہ میسر شود منجملہ فدیہ بایں نام بہ فقیر دہند واوقبول کند پس از وے طلب نما یند وبستا نند بازبوے بدہمان نا م دہند وہمچنیں مکرر کنند تا آنکہ فدیہ نماز وروزہ در فدیہ ہاتمام ادا شود وایں حیلہ خالی از تکلف نیست[2]۔ |
مشہور اور اکثر کتب میں منقول یہ ہے کہ جو بھی گندم میسر ہو نماز روزہ کے فدیہ کے طور پر اسے فقیر کو دیا جائے وہ قبول کرے اس کے بعد اس سے بطور ہبہ لے لیں پھر اسے بطور فدیہ دے دیں اسی طرح بار بار کریں حتی کہ نماز وروزہ کا فدیہ مکمل ہوجائے اوریہ حیلہ تکلّف سے خالی نہیں۔(ت) |
اقول: اسی حیلہ جمیلہ کی تصریح فرمائی درمختار و بزازیہ و خلاصہ و عالمگیریہ و بحرالرائق وغنیہ وصغیری شروح منیہ وفتح اﷲ المعین حاشیہ کنز ومنحۃ الخالق و طحطاوی علی الدرالمختار وردالمحتار میں زائدین علی مافی الشرح کلھم فی باب قضاء الفوات(جو شرح میں ہے اس پر اضافہ کرتے ہوئے ان سب نے یہ مسئلہ باب قضاء الفوات میں ذکر کیاہے۔ت) اور جامع الرموز وبرجندی شروح نقایہ و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع