30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دین علی فقیر فابرأہ عنہ سقط منہ زکوٰۃ نوی بہ عن الزکٰوۃ او لا لانہ کالھلاك ولوابرأہ عن البعض سقط زکٰوۃ ذلك البعض لما قلنا وزکٰوۃ الباقی لاتسقط ولو نوٰی بہ الاداء عن الباقی لان الساقط لیس بمال والباقی یجوز ان یکون مالافکان خیرامنہ فلایجوز الساقط عنہ اھ١[1] ۔ |
دین تھا اس نے فقیر کو قرض سے بری کردیا تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہوجائے گی خواہ اس سے زکوٰۃ کی اس نے نیت کی ہو یا نہ، اس لیے کہ یہ ہلاك ہونیوالے مال کی طرح ہے اور اگر بعض نے ساقط کیا تو سابقہ دلیل کی بناپر بعض سے ساقط ہوجائیگی لیکن باقی سے زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی اگر چہ باقی سے ادائیگی کی نیت کی گئی ہوکیونکہ جو ساقط ہے مال نہیں اور جو باقی ہے اس کا مال ہونا ممکن ہے تو باقی ساقط سے بہتر ٹھہرالہذا اس سے سقوط نہیں ہوگا اھ (ت) |
یہ تقریر منیر بتوفیق القدیر اقتضاء کرتی ہے کہ دین معاف کرنے سے فدیہ مطلقًا ادا نہ ہوجب تك وصول کرکے فدیہ میں نہ دی، اس تقدیرپر وُہ حیلہ ہند والوں میں متعارف ہے اور بعض متاخرین فضلائے ہند نے اسے کشف الغطا میں ذکر کیا کہ:
|
متعارف چنان ست کہ حساب کنند سالہائے میّت را داد نی مدت بلوغ کہ در مرد دواز دہ سال و در زن نہ سال ست وضع کنند باقی را مقابل ہر شش نماز واجب شبانہ روز سہ صاع کامل گیر ند و ماہ کامل سی روز اعتبار کنند تا فدیہ نماز ہائے یك سال کہ سی صد وشصت روز ست یك ہزار وہشتاد صاع حاصل آید و پانزدہ صاع فدیہ رمضان افزایند ہمگی فدیہ تمام سال یك ہزار ونودوپنج صاع شود ہمیں طریق سالہائے تمام عمر را حساب کنند وحاصل آن را موافق قیمت مبلغ شخص نمایند وبنا بر ضرورت عسرت |
معروف یہ ہےکہ میّت کی عمر کے تمام سالوں کا حساب لگاتے ہیں، کم ازکم مدتِ بلوغ جو مرد میں بارہ سال اور عورت میں نو سال ہے نکال کر باقی عمر ہردن رات کی چھ نمازوں کے مقابل(اعتبار سے) تین صاع لیتے ہیں اور ہر ماہ کے تیس دن شمار کئے جاتے ہیں حتی کہ ایك سال (جو تین سوساٹھ دنوں کا ہے) کی نمازوں کا فدیہ ایك ہزاراسّی صاع بنتا ہے اور ١٥صاع رمضان کا فدیہ زیادہ کرتے ہیں تو تمام سال کا فدیہ ایك ہزار پچانوے(١٠٩٥) صاع ٹھہرا، پس اسی طریقے سے تمام سالوں کا حساب کرلیا جائے اور اس کے حاصل کے مطابق اس کی قیمت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع