30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والمسائل بتعلیلا تھا مذکورۃ متونا وشروحا( کیونکہ ان کی ادائیگی اس طرح ہورہی ہے جس طرح وہ واجب ہوئے تھے اور یہ تمام مسائل اپنی تعلیلات کے ساتھ متون اور شروحات میں مذکور ہیں ۔ت) روزوں میں کوئی ناقص نہیں اور قضا نمازیں عمومًا کامل ہیں ولہذا کل کی عصر آج آفتاب ڈوبتے قضا نہیں کی جاسکتی اور جو مال کسی پر دین ہو جب تك وصول نہ ہومال کامل نہیں ناقص ہے خصوصا جبکہ کسی مفلس پر ہو کہ وہ تو گویا مردہ مال ہے ولہذا حاصل ملك مال کہ تمول وغنا نہیں ہوتا زید کے لاکھ روپے کسی مفلس پر قرض آتے ہوں جب تك پاس نصاب نہ ہو فقیر ہے خود زکوٰۃ لے سکتا ہے۔
|
فی الاشباہ من لہ دین علی مفلس مقر،فقیر علی المختار[1]۔ |
اشباہ میں ہے جس کا کسی ایسے شخص پر قرض ہو جو مفلس اقرار کرنے والا ہو تو مختار قول پر وہ فقیر ہے۔(ت) |
بلکہ عرفًا دین کو مال ہی نہیں کہتے اگر لاکھوں قرض میں پھیلے ہوں اور پاس کچھ نہیں تو قسم کھا سکتا ہے کہ میرا کچھ مال نہیں کما تقدم عن الظھیریۃ ومثلہ فی البحروالتنویروغیرھما(جیسا کہ ظہیریہ کے حوالے سے پہلے گزرا، اس کی مثل بحر، تنویر، اور دیگر کتب میں ہے۔ت) ولہذا کسی عین یعنی نصاب موجود کی زکٰوۃ ،دین بہ نیت زکٰوۃ معاف کر دینے سے ادا نہیں ہو سکتی کہ نصاب موجود مال کامل ہے تو مال ناقص اس کی زکوٰۃ نہیں ہوسکتا بلکہ جو دین آئندہ ملنے کا ہے اس کی زکوٰۃ بھی معافی دین سے ادا نہ ہوگی کہ دین باقی، دین ساقط سے بہتر ہے، دین ساقط اب کبھی مال نہیں ہوسکتا اور دین باقی میں احتمال ہے شاید وصول ہوکر مال ہوجائے، ہاں جو نصاب کسی فقیر پر دین تھی وُہ کُل یا بعض اسے معاف کردے تو قدرمعاف شدہ کی زکوٰۃ ساقط ہوگئی کہ ناقص ناقص سے ادا ہوسکتاہے۔
|
فی الدرالمختار، لوابرأالفقیر عن النصاب صح و سقط عنہ، واعلم ان اداء الدین عن الدین و العین عن العین وعن الدین یجوز واداء الدین عن العین وعن دین سیقبض لا یجوز اھ [2] فی تبیین الحقائق لو کان لہ |
درمختار میں ہے : اگر کسی نے فقیر کو نصاب سے بری کردیا تو صحیح ہوگا اور اس سے زکوٰۃ ساقط ہوجائیگی۔ واضح رہے کہ دین کی ادائیگی دین سے اور عین کی ادائیگی عین سے، اور دین دونوں سے جائز ہے لیکن دین کی ادائیگی عین سے اوراس دین سے جو عنقریب مقبوض ہوگا ان دونوں سے جائز نہیں اھ تبیین الحقائق میں ہے اگر کسی کا فقیر پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع