30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی محیط الامام السرخسی ثم الھندیۃ، لوادی ربع صاع من حنطۃ جیدۃ تبلغ قیمتہ قیمۃ نصف صاع من شعیر لا یجوز عن الکل، بل یقع عن نفسہ وعلیہ تکمیل الباقی وکذا لا یجوز ربع صاع من حنطۃ عن صاع من شعیر اھ [1] ملخصًا،فی البدائع لان القیمۃ انما تعتبر فی غیر المنصوص علیہ[2] |
محیطِ امام سرخسی پھر ہندیہ میں ہے کہ اگر کسی نے ایسی جید گندم کا چوتھائی صاع ادا کیا جس کی قیمت جَو کے نصف صاع کو پہنچ جاتی ہے تو یہ کل کی طرف سے جائز نہیں بلکہ یہ اپنی طرف سے عطیہ ہے، باقی کی تکمیل کرنا اس پر لازم ہو گا، اور اسی طرح گندم کا چوتھائی صاع جوجَو کے صاع کی قیمت کو پہنچ جائے دینا جائز نہیں اھ بدائع میں ہے کیونکہ قیمت کا اعتبار وہاں ہے جہاں نص میں عین کی تصریح نہیں(ت)۔ |
قیمت میں نرخ بازار آج کا معتبر نہ ہوگا جس دن ادا کررہے ہیں بلکہ روز وجوب کا مثلًا اُس دن نیم صاع گندم کی قیمت دو آنے تھی آج ایك آنہ ہے تو ایك آنہ کافی نہ ہوگا۔ دو٢ آنے دینا لازم ، اور ایك آنہ تھی اب دو٢ آنے ہوگئی تو دو آنے ضرور نہیں ایك آنہ کافی۔
|
فی الدرالمختار جاز دفع القیمہ فی زکوٰۃ وعشر وخراج وفطرۃ ونذروکفارۃ غیرالعتاق وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب وقالایوم الاداء[3] |
درمختار میں ہے کہ زکوٰۃ، عشر، خراج، صدقہ فطر، نذر، عتاق کے علاوہ کفار ہ میں قیمت کا دینا جائز ہے اور قیمت یوم وجوب کے اعتبار سے ہوگی اور صاحبین کی رائے کے مطابق یومِ ادا کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا(ت) |
(۸) یہاں صُورتیں متعدد ہیں، فدیہ والا اپنی حیات میں فدیہ ادا کرتا ہے جیسے شیخ فانی روزے کا یا اُس کے بعد وارث بلا وصیت بطور خود دیتا ہے یا بحکم وصیت ادا کیا جاتا ہے اور درصورت وصیت مدیون پر یہ دین بعد موت مورث ،حادث ہواہے جیسے کسی نے ترکہ سے کوئی چیز غصب کرکے صرف کر ڈالی کہ اس کے تاوان کا اس پر دین آیا یا دین حیات مورث کا ہے تو یہ چار صورتیں ہیں۔ صورت اخیر میں عدمِ صحت کا حکم درمختار وغیرہ میں مصرح ہے یعنی زید پر نماز روزے وغیرہما کا فدیہ تھا اس نے وصیّت کی کہ میرے مال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع