30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی العدۃ ولو بثلاث نھر معراج الدرایہ اھ[1] وفی ردالمحتار عن بدائع الامام ملك العلماء المرأۃ تغسل زوجھا لان اباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح فتبقی مابقی النکاح والنکاح بعدالموت باق الی ان تنقضی العدۃ بخلاف مااذا ماتت فلا یغسلھا لانتھاء ملك النکاح لعدم المحل فصار اجنبیا٢[2]، واﷲتعالٰی اعلم۔ |
ہوچکی ہو اھ۔علامہ شامی نے فرمایا یعنی وہ عدت میں ہو اگر چہ تین طلاقیں ہوچکی ہوں یہ نہر میں معراج الدرایہ سے ہے اھ ردالمحتار میں امام ملك العلماء کی بدائع سے ہے کہ خاتون اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ غسل کی اباحت نکاح کی وجہ سے حاصل ہُوئی تو جب تك نکاح باقی ہے اباحت بھی باقی رہے اور نکاح تو خاوند کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے یہاں تك کہ عدت گزرجائے بخلاف اس صورت کہ جب بیوی فوت ہوجائے تو خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا کیو نکہ محل نہ رکھنے کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا لہذا اب خاوند اجنبی قرار پائے گا واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
(۷) قیمت افضل ہے مگر قحط میں کھانا دینا بہتر،
|
فی الدرالمختار دفع القیمۃ ای الدراھم افضل من دفع العین علی المذھب المفتی بہ،جوھرۃ بحرعن الظھیریۃ وھذا فی السعۃ امام فی الشدۃ فدفع العین افضل[3] ۔ |
درمختار میں ہے مفتی بہ مذہب کے مطابق قیمت یعنی دراھم کاادا کرنا عین شے سے افضل ہے جوہرہ۔ اور بحر میں ظہیریہ سے ہے کہ یہ عام حالات یعنی آسانی کے وقت ہے اگر کسی وقت شدت اور قحط ہوتو عین شئی کا دینا افضل ہوگا۔(ت) |
باقی احکام نقد وغلّہ یکساں ہیں مگر وُہ تفاوت جو خاص گندم وجَو میں بسبب اعتبار وزن معتبر، شرعی اسقاط میں لحاظ مالیت کا ہے مثلًا فرض کیجئے کہ نیم صاع گندم کی قیمت دوآنہ ہے اور ایك صاع جَو کی ایك آنہ تو ایك آنہ کی قیمت کی کوئی چیز کپڑ ا، کتاب، چاول، باجراوغیرہا بلحاظ قیمت جَو دے سکتے ہیں اگر چہ گندم کی قیمت نہ ہُوئی مگر چہارم صاع گندم کافی نہیں اگر چہ قیمت اُن کی بھی ایك صاع جَو کے برابر ہوگئی کہ چار چیزیں جن پر نص شرعی وارد ہوچکی ہے یعنی گندم ، جَو، خُر ما، کشمش ان میں قیمت کا اعتبار نہیں، جتنا وزن شرعًا واجب ہے اُس قدردیناہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع