30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یجری بنفسہ مع الریق الی الجوف لافیما یتعمد فی ادخالہ لانہ غیر مضطر فیہ اھ۱؎ وقد نقل کلامہ العلامۃ الشرنبلالی نفسہ فی المراقی تصریحا وفی الغنیۃ تلویحامقرا علیہ، وھذاایضا بحمداﷲتعالٰی مشید ارکان مانحونا الیہ من ان المناط ھو الفرق بالدخول والادخال لاغیر وان لا نظر فی الدخول الی کون سببہ ممایستھل التحرز عنہ، الاتری ان الانسان غیر مضطرالی اکل مایبقی شئی منہ فی اسنانہ کاللحم وامثالہ، بل یمکن الاجتزاء بمثل اللبن ثم ان سلم لہ ان تعاطی الاسباب الغالبۃ من باب الادخال المفطر لوجب ان یکون مفطرا مطلقا وان احتاج الیھا کما قد منا بحقیقتہ فلیس من لم یکن عندہ ما یغنیہ یومہ ولم یقدر علی الاکتساب الابحرفۃ غر بلۃ وھرس وخبز وطبخ ونحوھا ممایدخل فیہ الغبار و الدخان باجلّ ضرورۃ واقل حیلۃ من مریض اونائم اومکرہ او ذی مخمصۃ فاذالم یستحق اولٰئِك اسقاط |
جاری ہوسکتی ہے جو تھوك کے ساتھ جوف میں جائے، لیکن اس میں جاری نہیں ہوسکتی جس کا ادخال عمدًا ہوکیونکہ اس میں روزہ دار مجبور نہیں اھ علامہ شرنبلالی نے یہ کلام مراقی میں تصریحًا اور غنیہ میں اختصارکے ساتھ اسے ثابت رکھتے ہُوئے نقل کیا ہے، بحمد اﷲیہ بھی ہماری اس گفتگو کی بنیادوں کو مستحکم کرتا ہے کہ فرق کامدار دخول اور ادخال پر ہے، اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں اور دخول میں اس طرف نظر کرنا بھی مناسب نہیں کہ اس کا سبب ہونا ایسا تھا جس سے بچنا آسان تھا، کیا آپ ملاحظہ نہیں کرتے کہ دانتوں میں جو بچ جاتا ہے مثلًا گوشت وغیرہ تو انسان اس کے کھانے پر مجبور نہیں بلکہ انسان کا اس سے محفوظ رہنا ممکن بھی ہے، مثلًادودھ وغیرہ کے ذریعے، پھر اگر یہ تسلیم کرلیا جائے ایسے اسباب میں مشغول ہونا جن سے غالبًا دخولِ غبار ہوجاتا ہے اور روزہ ٹوٹ جاتا ہے، تو ضروری ہوگا کہ یہ ہرحال میں روزہ ٹوٹنے کا سبب بنے اگرچہ آدمی ان کا محتاج ہو، جیسا کہ ہم پیچھے اس کی حقیقت بیان کرآئے، تو وہ شخص جس کے پاس دن گزارنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور وُہ آٹا چھاننے، گھوڑا دوڑانے، روٹی کھانے اور پکانے وغیرہ جو دخولِ غبار کا سبب ہیں ان کے علاوہ کسی کاروبار پر قادر بھی نہ ہو تو ایسا شخص مریض، سونے والے، مکرہ اور صاحبِ اضطرار سے ضرورت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع