30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(تحقیقی کا حق یہی تھا اﷲ سبحانہ ہی توفیق کا مالك ہے والحمد ﷲرب العالمین ۔ت) اور اس پر ایجاب کفارہ تو صریح بہتان۔کفارہ کے لئے جنایت کاملہ چاہئے اور بے قصدوبے ارادہ کون سی جنایت کاملہ ہوسکتی ہے، اگر بفرضِ غلط اس صورت میں روزہ جانا بھی ٹھہرالیتے تو کیا شرع سے کوئی اس کی نظیر بتا سکتا ہے کہ بلا قصد جو افطار واقع ہو اس میں حکمِ کفارہ دیا گیا ہو، بھلا یہ توبلاارادہ حلق یا دماغ میں دُھواں جاتا ہے، بلاتعمّد جماع بھی تو موجب کفارہ نہیں جو اکبر واشنع مفطرات ہے۔ تنویرالابصار میں ہے:
|
ان جامع فی رمضان اداء اوکل اوشرب عمدا،قضی وکفر[1]۔ |
اگر ادائے رمضان عمدًا جماع کیا یا کھاپی لیا تو قضاء و کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔(ت) |
درمختار میں ہے:عمد اراجع للکل[2] (قصدًا کی قید ہر ایك سے متعلق ہے۔ت) ردالمحتار میں ہے:
|
المراد تعمد الافطار والناس وان تعمد استعمال المفطر لم یتعمد الافطار[3]۔ |
یہاں ارادۃً افطار مراد ہے، بھول جانے والا اگر چہ کھانے پینے کا قصد توکرتا ہے مگر اس کا افطار کا ارادہ نہیں ہوتا۔(ت) |
یہ مسئلہ بدیہیاتِ فقہیہ سے ہے حاجتِ ایضاح سے غنی۔
|
قلت: وانما اطنبناالکلام فی ھذاالمقام حرصا علی احکام الاحکام وادغام الاوھام احتراسا ان لایعثر عاثر حین یعثر علی بحث للعلامۃ الشرنبلالی فی ھذاالمرام حیث قال رحمہ اﷲ تعالٰی فی غنیۃ ذوی الاحکام قولہ اودخل حلقہ غباراواثرطعم الادویۃ فیہ لانہ لایمکن الاحتراز منھا اھ لدخولہ من الانف اذااطبق الفم کما فی الفتح قلت فھذا یفید |
قلت: ہم نے اس مقام پر اتنی طویل گفتگو اس لئے کی ہے کہ احکام میں استحکام اور اوہام کا ازالہ ہو اور اگر آپ علامہ شرنبلالیہ کی بحث پر مطلع ہوں تو وہاں ہرکسی کے اعتراض سے محفوظ ہوجائیں انہوں (رحمہ اﷲتعالٰی) نے غنیہ ذوی الاحکام میں فرمایا قولہ یا روزہ دارکے حلق میں غبار یا ادویات کا ذائقہ داخل ہوجائے کیونکہ اس سے احتراز ممکن نہیں اھ کیونکہ اگر منہ بند بھی ہو تو ناك کے ذریعے دخول ہوجائیگا، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے، قلت یہ عبارت بتار ہی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع