30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من لایصوم ولم تجد طبیخا ولا لبنا حلیبا لاباس بہ للضرورۃ، الاتری انہ یجوز لھاالافطار اذا خافت علی الولد فالمضغ اولی[1]۔(ملخصًا) |
طعام چبادے مثلًاحائضہ یا نفاس والی کوئی عورت یا جو روزہ دار نہ ہوں ، اور نہ روٹی پکی ہُوئی اور نہ دودھ میسر ہوتو اب ضرورت کے پیش نظر کوئی حرج نہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ جب کسی خاتون کو بچّے کے ضائع ہونے کا خوف ہوتو روزہ چھوڑ سکتی ہے، تو چبانا تو بطریقِ اولٰی جائز ہوگا ۔(ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
الذوق لیس بافطار بل یحتمل ان یصیر ایاہ اذقد یسبق شئی منہ الی الخلق فان من حام حول الحمی یوشك ان یقع فیہ انتھت،[2] |
مختصرات۔ چکھنا افطار نہیں بلکہ اس میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ کہیں کوئی شئے حلق میں چلی جائے( یعنی افطار کا سبب ہے) کیونکہ جو محفوظ جگہ کے قریب جاتا ہے قریب ہے کہ اس میں داخل ہو جائے۔ گزشتہ عبارتیں اختصار کے ساتھ ختم ہوگئیں۔(ت) |
دیکھو کنیز مولٰی یا عورت شوہر کے لئے یانان پزمزدوری پر روزے میں کھانا پکائے تو اسے نمك چکھنا جائز نہیں بتاتے جبکہ مولٰی و شوہر و مستاجر خوش خلق و حلیم ہوں کہ نمك کی کمی بیشی پر سختی نہ کریں گے اور کج خلق و بدمزاج ہوں تو روارکھتے ہیں، اور بچّے کوکوئی چیز چباکردینے میں شرط لگاتے ہیں کہ جب کوئی حیض یا نفاس والی عورت خواہ کوئی بے روزہ دارایسا نہ ملے جو چباسکے، نہ بچّہ کو دودھ وغیرہ اشیاء جن میں چبانے کی حاجت نہ ہو دے سکے اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہی کہ چکھنے چبانے سے روزہ جاتا نہیں بلکہ احتمال ہے کہ شاید حلق میں چلا جائے ، لہذا بے ضرورت نا جائز ہوا مگر یہ نہیں فرماتے کہ سرے سے پکانا ہی حلال نہیں۔ابھی گزر چکا کہ غلام و کنیز ایسے احکام میں اطاعت مولٰی نہ کریں، پھر زن واجیر تودوسرے درجے میں ہیں، اور پُر ظاہر کہ نمك ہرگز حلق میں چلے جانے کا سبب کُلی یا اغلبی کیسا ، سبب مساوی بھی نہیں، ہاں احتمال قریب ہے۔ ولہذا محقق علی الاطلاق نے بلفظِ احتمال ہی تعبیر فرمایا، اب پکانے کی ان اجازتوں کا منشا دو۲ حال سے خالی نہیں یا توا مروہی ہے کہ دخولِ دخان جبکہ شرعًا دائرہ مفطرات سے خارج ہوچکا مدار کا ر حقیقۃً قصدِادخال پر رہا ، بغیر اس کے جب افطار ہی نہیں تو اس کے قرب و تعریض میں کراہت کیوں ہو، یا اگر قصد سبب اغلب قصد مسبب ٹھہراؤ تو واجب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع