30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیہ بعد المضمضۃ[1]۔ |
تری جوکُلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے(ت) |
دیکھو کُلی کے بعد جو تری منہ میں باقی رہتی ہے اُسے بھی شرع نے اسی تعذر تحرز کی بنا پر مفطر نہ ٹھہرایا اب وہاں یہ لحاظ ہرگز نہیں کہ یہ کُلی خود بھی ممکن الاحتراز تھی یا نہیں، اگر محض بے ضرورت کُلی کی جب بھی وُہ تری ناقضِ صوم نہ ہوگی حالانکہ ضرور کہہ سکتے تھے کہ یہ اس کا دخول اس کُلی کرنے سے ہوا، نہ کرتا نہ ہوتا، اور کُلی بے ضرورت تھی تو ممکن الاحتراز ہُوا۔ ۳۱بزازیہ میں ہے:
|
یکرہ ادخال الماء فی الفم بلاضرورۃ وفی ظاہر الروایۃ لاباس لان المقصود التطہیر فکان کالمضمضۃ[2]۔ |
بلا ضرورت پانی کا منہ میں داخل کرنا مکروہ ہے اور ظاہر روایت کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مقصود تطہیر ہے لہذا یہ کُلی کی طرح ہے(ت) |
حدیہ کہ بے ضرورت کُلی کرنی ظاہرالروایۃ میں مکروہ بھی نہیں حالانکہ عنقریب آتا ہے کہ بے ضرورت نمك دیکھنے کے لئے شوربا چکھنا مکروہ وناجائز ہے، تو وجہ وہی کہ شرع مطہر اسے شمار مفطرات سے خارج فرماچکی تو اب ضرورت و عدمِ ضرورت پر نظر نہ ہوگی نہ اس میں کسی مفطر کا احتمال پیدا ہوگا کہ کراہت آئے۔
ثم اقول: وباﷲالتوفیق اس پر تو عرشِ تحقیق مستقر ہُوا کہ دخول بلا صنعہ کیف ما کان(بلا قصد دخول جیسے بھی ہو۔ت)اصلا صالح افطار نہیں ، ولہذا علمائے کرام نے مدار فرق صرف دخول و ادخال پر رکھا، دخول کا کوئی فرد مفطر میں داخل نہ کیا کما سمعت من نصوصھم(جیسا کہ ان کی تصریحات آپ سُن چکے۔ت) مگر یہاں ایك نکتہ دقیقہ اور ہےسبب شئی مفضی الی الشئی(شئی کا سبب شئی تك پہنچانے والا ہوتا ہے۔ت) دو۲ قسم ہے:ایك مفضی کلیۃً یا غالبًا جس کے بعد وقوع مسبب عادت متیقن یا مظنون بظن غالب ہوکہ فقہیات میں وُہ بھی ملتحق بالیقین۔
دوسرا مفضی نادرًا جس کے بعد مسبب کبھی واقع ہوجائے قسم اوّل کے قصد کو قصدِ مسبّب کہنا مستبعدنہیں کہ جب صاحب قصد کو معلوم کہ اس کے بعد مسبب ضرور یا اکثر واقع ہی ہوتا ہے اور اس نے سبب کا ارتکاب بالقصد کیا تو گویا وقوع سبب کا التزام کرچکا بایں معنی خیال کرسکتے ہیں کہ ایسا دخول داخل شق ادخال ہوگا ، مگر قسم دوم ہرگز اس قابل نہیں ، پُرظاہر کہ یہ سبب سببِ کافی نہ ہوگا۔ اوراس کے بعد وقوع مسبب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع