30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اتفاقًا بعض صائمین کو بعض احوال میں لاحق ہو جیسے مفطر و مکروہ ونائم و مریض کی مجبوری کافی نہیں ہوسکتی، یونہی قسم اول کی ضرورت دائمہ لازمہ غیر منفطر بھی درکار نہیں بلکہ صرف قسم دوم کی ضرورت عامہ فعلیہ بس ہے اور جب اس کی بناء پر وُہ شے شمار مفطر سے خارج رہی تواب تفصیل و تفریق اوقات و حالاتِ ضرورت، نہیں کرسکتے ورنہ وہی استحالہ لازم آئے گا جسے ہم ابھی عقلًا ونقلًا باطل کرچکے بس دخولِ دخان و غبار بے قصد و اختیار کبھی کہیں پایا جائے اصلًا مفسدِ صوم نہیں ہوسکتا، نہ اس کہنے کی گنجائش کہ فلاں جگہ اتفاق دخول وہاں جانے سے ہوانہ جاتا نہ ہوتا، اور جانا قصدًا تھا تو ممکن الاحتراز ہُوا۔امام ۲۹کردری وجیزمیں فرماتے ہیں:
|
اذا بقی بعد المضمضۃ ماء فابتلعہ بالبزاق ثم لم یفطر لتعذر الاحتراز[1]۔ |
اگر کُلی کے بعد منہ میں کچھ پانی باقی رہ جائے اور روزہ دار اسے تھوك کے ساتھ نگل جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں (ت) |
فتح سے اسی مسئلہ میں گزرا:
|
صارکبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ[2] |
یہ اس تری کی طرح ہے جوکلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے۔(ت) |
شرنبلالیہ میں امام زیلعی سے ہے:
|
اذادخل حلقہ غبار او ذباب وھو ذاکر لصومہ لا یفطر لانہ لا یقدرعلی الامتناع عنہ فصار کبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ[3]۔ |
جب روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکّھی داخل ہوجائے اگر چہ اسے روزہ یاد ہو تو روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ اس سے بچنے پرقادرنہیں یہ اس تری کی طرح ہے جو کُلی کے بعد اس کے منہ میں باقی رہتی ہے(ت) |
شرح الملتقی للعلامہ عبدالرحمٰن الرومی میں ہے:
|
انہ لایقدر علی الامتناع عنہ فانہ اذا اطبق الفم لایستطاع الاحتراز عن الدخول من الانف فصار کبلل یبقی فی |
روزہ دار اسے روکنے پر قادر نہیں کیونکہ اگر منہ بند بھی رکھے پھر بھی ناك کے ذریعے غبار کے دخول سے احتراز کی طاقت نہیں رکھتا تو یہ یُونہی جیسے کہ وُہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع