30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لودخل حلقہ غبارالطاحونۃ اوطعم الادویۃ اوغبار الھرس واشباھہ، او الدخان او ماسطح من غبارالتراب بالریح او بحوافر الدواب واشباہ ذلك لم یفطرہ[1]۔ |
اگر روزہ دار کے حلق میں چکّی کا غبار، ادویات کا ذائقہ، گھوڑے کے دوڑنے یا اس کی ہم مثل کی غبار، دُھواں، ہوا کے ذریعے اڑنے والی، چوپایوں اور اس کے ہم مثل کی وجہ سے اڑنے والی غبار چلی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔(ت) |
۱۸وجیز و۱۹انقروی و۲۰واقعات المفتین میں ہے:
|
دخل الذباب اوالدخان اوالغبار حلقہ او بقی بلل بعد المضمضۃ فابتلعہ مع البزاق لم یفطر[2]۔ |
روزہ دارکے حلق میں مکھی، دُھواں یا غبار چلی گئی یا کُلّی کے بعد تری منہ میں رہ گئی اور اسے وہ تھوك کے ساتھ نگل گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گات |
ہاں اگر صائم اپنے قصد وارادہ سے اگریا لوبان خواہ کسی شَے کا دُھواں یاغبار اپنے حلق یا دماغ میں عمدًا بے حالت نسیان صوم داخل کرے، مثلًا بخور سلگائے اور اسے اپنے جسم سے متصل کرکے دُھواں سُونگھے کہ دماغ یاحلق میں جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوگا۔ ۲۱ درمختار میں ہے:
|
مفادہ انہ لوادخل حلقہ الدخان افطرایّ دخان کان ولو عودا اوعنبرالوذاکرا لامکان التحرز عنہ فلیتنبہ لہ کما بسطہ الشرنبلالی[3]۔ |
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی روزہ دار نے بقصد اپنے حلق میں دُھواں داخل کیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا خواہ وُہ دُھواں عود یا عنبر کا ہو، اگر اسے روزہ یاد ہو کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے اس پر متنبہ رہنا چاہئے، جیسا کہ اس پر شرنبلالی سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ت |
علامہ شرنبلالی نے۲۲غنیہ ذوی الاحکام و۲۳امداد الفتاح و۲۴ مراقی الفلاح تینوں کتابوں میں فرمایا:
|
وھذالفظ المراقی وفیماذکرنا اشارۃ الٰی انہ من ادخل بصنعہ دخانا حلقہ بای صورۃ کان الادخال، فسد صومہ |
مراقی الفلاح کی عبارت یہ ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر کسی نے ارادۃً حلق میں دُھواں داخل کیا خواہ ادخال کی کوئی صورت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع