30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر قرائن بے چارے کس گنتی شمارمیں ہیں۔ ذی علم کو بارہا واقع ہوتا ہے کہ بہت امور خارجہ کے لحاط سے چاند ہونے میں اطمینان کامل رکھتا ہے، مگر جب تك ثبوت شرعی نہ ہو ہرگز حکمِ رؤیت نہیں کرتا۔ یُوں ہی جب ثبو ت میزانِ شرع پر ٹھیك اُترے گا مجبورًاحکمِ رؤیت کرے گا، اگر چہ بنظر امور دیگر کسی طرح ہلال کا ہونا دل پر نہ جمے۔ ایسی ہی جگہ عالم و جاہل کا فرق کھلتا ہے، جب قرائن اس کے خلاف ظاہر ہوتے ہیں جہال حکم عالم پر اعتراض کرنے لگتے ہیں ،حالانکہ وُہ جانتا ہے کہ جومیں نے کیا وہی رائے صائب تھی اور مجھ پر بہر حال مدرك شرعی کی پابندی واجب اس امر کی طرف اشارہ زیر یا زدہم بھی گزرا، اور ان یقینوں کی زیادہ توضیح رسالہ ازکی الاھلال میں مذکورہُوئی،وباﷲالتوفیق وصلی اﷲتعالٰی علٰی سیدنا محمدٍواٰلہٖ وصحبہ اجمعین۔
فائدہ: صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
شھران لاینقصان شھراعید رمضان وذی الحجۃ [1]۔رواہ احمد والستۃ عن ابن ابی بکرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔ |
عید کے دونوں مہینے ناقص نہیں ہوتے یعنی رمضان اور ذو الحجہ ۔(اسے امام احمد اور ائمہ ستہ نے حضرت ابنِ ابی بکرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت) |
بعض علماء نے اس کے یہ معنی لیے ہیں کہ یہ دونوں مہینے ایك سال میں۲۹ کے نہیں ہوتے۔ صحیح بخاری میں ہے:
|
قال محمد لا یجتمعان کلاھما ناقص[2]۔ |
محمد بن سیرین کہتے یہ دو۲ مہینے جمع نہیں ہوتے اس حال میں کہ دونوں ناقص(یعنی ۲۹کے) ہوں۔(ت) |
امام سرا فـــــ نے فرمایا: لاینقصان جمیعا فی سنۃ واحدۃ ٍ[3] (ایك سال میں عید کے دو۲ ماہ جمع نہیں ہوتے کہ دونوں ہی ناقص ہوں۔ت) امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا:
|
ان نقص رمضان تم ذوالحجۃ وان نقص ذو الحجۃ تم رمضان[4]۔ |
رمضان ۲۹ کاہوگا تو ذوالحجہ ۳۰ کا،اور ذوالحجہ ۲۹ کا ہوگا رمضان ۳۰کا۔(ت) |
[1] مسند احمد بن حنبل مروی عن عبد الرحمن ابن ابی بکر رضی اﷲعنہ دارالمعرفۃ بیروت ۵ /۳۸،صحیح البخاری کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۶)
[2] صحیح البخاری کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۲۵۶
[3] فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب الصوم دارالمعرفہ بیروت ۴/۱۰۷
[4] صحیح البخاری کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۲۵۶
فـــــ:فتح الباری میں امام سراء کی بجائے امام بزار سے یہ عبارت منقول ہے۔)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع