30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شہادت پر شہادت، یا شرعی شہرت۔یہ مسئلہ بہت ضروری الحفظ ہے۔ یہ صرف عوام بلکہ آج کل کے بہت مدعیانِ علم، بلکہ بعض ذی علم بھی ناواقف پائے،
|
واﷲ الھادی ھذہ الجماعۃ لم یشھد وابا لرؤیۃ ولا علٰی شہادۃ غیرھم وانما حکوا بالرؤیۃ غیرھم فلا یلتفت الٰی قولھم [1]خز، وقد نص علی المسئلۃ فی دط طم ش فت ع ب و غیرہا کما ذکرنا بعض نصوصھا فی ازکی الاھلال۔ |
او ر اﷲ ہی ہدایت عطا فرمانے والاہے، اس جماعت نے چاند دیکھنے کی گواہی نہیں دی اور نہ ہی دُوسروں کی گواہی پر گواہی دی ہے انہوں نے صرف دُوسروں کی رؤیت کی حکایت کی ہے لہذا ان کا قول قابل توجہ نہیں ہوگا، خزانۃ۔ اور اس مسئلہ پر در، طحاوی، طم، ش، فتح القدیر، ع، ب وغیرہ نے تصریح کی ہے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض کو ہم نے ازکی الاھلال میں ذکر کردیا ہے(ت) |
(م) قمر ۲۰نمبر۳۳: یقین عرفی کچھ بکار آمد نہیں،وصلی اﷲعلٰی خیر خلقہ سیّدنا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین وَالحمد ﷲربّ العالمین۔
(ش) ۲۰/۳۳:اقول: یہ ایك نفیس مسئلہ ہے جس پر فقیر غفرا ﷲتعالٰی لہ نے تنبیہ کی، یقین دو۲ طرح کا ہوتا ہے: ایك شرعی کہ طریقہ شرع سے حاصل ہو۔ دوسرا عرفی کہ باوجود عدم طریقہ شرعی صرف اپنے مقبولات ومسلّمات یا تجربیات، مشہورات اور قرائن خارجیہ کے لحاظ سے اطمینان حاصل ہوجائے۔ ناواقف لوگ مدرك عرفی و شرعی میں تفرقہ نہ جان کر اسے کافی ووافی ودلیل شرعی گمان کرتے ہیں حالانکہ یہ صریح خطاہے،مثلا جہاں شرع مطہر نے شہادت میں عدد شرط کیا دو۲ مردیا ایك مرد دوعورتیں ہوں، وہاں ہمارے اعظم کسی معتمد اجل مستند نے جسے افضل اولیاء عالم جانیں، اور وُہ واقع میں بھی غوثِ زمانہ ہی ہو۔ شہادت دی کہ میرے سامنے ایسا ہُوا اور میں نے بچشمِ خوددیکھا، ہمیں جو اعتبار اس کے فرمانے پر آئے گا ہرگز دوچاردس بیس کی بات پر بھی اس سے زیادہ نہ ہوگامگر شرع دوسرا گواہ اورمانگے گی، اور معاملہ زنا میں تین۔ تواگر ایسے ہی تین گواہی دیں جب بھی نامسموع کہ قرآن کریم نے بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ [2] فرمایا،اگر چہ اس میں شك نہیں کہ سامع مطلع کو ان کے ارشاد میں اصلًا محلِ شك نہ ہوگا۔ اسی طرح ہزاروں نظیریں اس مسئلہ کی ہوں گی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع