30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من کتاب البیوع لا یعتمد علی الخط ولا یعمل بہ ولاشك ان الخط اعم من ان یکون بالقلم اوبالطابع الذی ھو الختم خ ملخصًا[1]۔ |
کتاب البیوع میں ہے کہ خط پر نہ اعتماد کیا جاسکتا ہے نہ عمل، اور اس میں شك نہیں کہ خط سے مراد عام ہے خواہ وہ قلم سے تحریر کیا ہُوا ہو یا اس پر مُہر مطبوع ہو خیریہ ملخصًا(ت) |
ان کے سوابے اعتبارئ خط پندرہ کتابوں کی عبارتیں فقیر نے فتوی تار مندرجہ رسالہ از کی الاہلال میں ذکر کیں وباﷲ التوفیق ۔تنبیہ:خط بعض صورتوں میں مقبول ہوتا ہے ،کتاب القاضی الی القاضی یعنی حا کم شرع کو خط لکھے تو بشرائط کثیرہ حجتِ ملزمہ ہے
|
(ح)۱۶/۲۹:عــــہ۱:الثلثۃ من کتاب الدعوی کا لاخیرۃ۱۲ |
آخری کی طرح یہ تینوں بھی کتاب الدعوٰی سے ہیں ۱۲(ت) |
(م) قمر۱۷:تار محض نمبر۳۰مہمل اور ناقابلِ التفات اگر چہ متعدد شہروں سے وارد ہو ۔
(ش)۱۷/۳۰ :فقیر غفر اﷲتعالٰی لہ نے اس بارے میں ایك مفصل فتوٰی لکھا اور علمائے بدایوں و رام پور و حیدر آباد و دہلی نے مُہریں کیں، وُہ فتوٰی آخر رسالہ ازکی الاہلال میں مذکور ہُوا، اور ہم ان شاء اﷲ بحثِ استفاضہ میں یہ بھی ظاہر کریں گے کہ تار جیسا ایك جگہ ویسا ہی دس بیس مقام کا، سب نامعتبر ہیں، یعنی اگر کسی شہرمیں متعدد تار مختلف امصار سے آئیں تو ان کی بھی کچھ وقعت نہ ہوگی کہ کثرتِ تار شرعی تواتر واشتہار سے اصلًا علاقہ نہیں۔
(م) قمر ۱۸نمبر۳۱: بازاری افواہ اصلًا کوئی چیز نہیں۔
(ش) ۱۸ /۳۱: اکثر دیکھا گیا ہے کہ خبر رؤیت میں شہر میں شہرہ اور عام عوام کی زبان پر چاند چاند کا چرچا ہوگیا، پھر تحقیق کیجئے تو کچھ اصل نہ تھی۔ اسے افواہ کہتے ہیں۔ شرع جس تواتر و شہرت کو قبول فرماتی ہے وہ اور چیز ہے۔
(م)قمر۱۹نمبر۳۲:مجرد حکایت محض نامسموع۔
(ش)۱۹/۳۲: گواہوں کا مجرد بیان کہ فلاں شہر میں چاند ہُوا، یا فلاں فلاں نے چاند دیکھا، یا فلاں روز سے روزہ رکھا۔ مجرد حکایت ہے جس پر اصلًا التفات نہیں، بلکہ یا توا پنے معائنہ کی شہادت ہو، یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع