30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئی مگر۱۳۰۲ھ بحسابِ تقویم یکم اسی دن مظنون تھی، مگر فقیر ۲۹ شعبان روز پنجشنبہ کو دیہات میں تھا کشادہ جنگل، صاف مطلع، ابر، غبار، دُخان کسی علّت کا نام نہ نشان۔ میں اورمیرے ساتھ اور مسلمان ہر چند غور کرتے رہے روّیت نہ ہُوئی، شبِ جمعہ کی خبر بھی نہ آئی، شنبہ کی عید قرار پائی۔ اب ۱۳۰۲ھ کا حساب تقویم اگر غلط بھی مانئے تو مطلع صاف نہ تھا اور بحکمِ ہیأت یکم یکشنبہ بھی ممکن تھی، توتصحیح قاعدہ کو اسی دن یکم رکھئے تو پنجم پنجشنبہ کی ٹھہریگی۔ ۱۳۰۳ھ میں یکم بھی جمعرات کو ہونی چاہئے حالانکہ وُہ بشہادت عین بھی غلط، اور بحکمِ ہیأت بھی ناممکن۔ لاجرم ماننا پڑے گا کہ ۱۳۰۳ھ میں ٹوٹ گیا۔ بااینہمہ اگر دائمہ بھی ہوتو صرف ایك تجربہ ہے، نہ حکمِ شرعی جس پر احکامِ شرعیہ کی بناء ہوسکے۔
(م) قمر۱۵:برابر چار مہینے سے زیادہ ۲۹ کے نہیں ہوتے، پر اس پر بھی مدار نہیں۔
(ش)۱۵/۲۸: امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
|
قد یقع النقص متوالیا شھرین او ثلٰثۃ ولایقع اکثر من اربعۃ اشھر۔[1] |
دو۲یا تین ۳ ماہ مسلسل انتیس کے ہوسکتے ہیں، چار ماہ سے زائد ناقص نہیں ہوسکتے۔(ت) |
اسی طرح شرح صحیح مسلم میں ہے:لکن مصدرا بلفظۃ قالوا[2] (لیکن اسے لفظ"قالوا"سے تعبیر کیا ہے۔ت)پھر بھی یہ اسی قبیل سے تجربہ ہے، یا حساب جس پرشرع میں اعتماد نہیں۔ مثلًا ربیع الآخر سے رجب تك چار مہینے ۲۹ کے ہوتے آئے، اب شعبان کی ۲۹کو شہادت رؤیت گزری، بلاشُبہ مقبول ہوگی، اور یہ خیال نہ کریں گے کہ ۵برابر۲۹ کے ہوئے جاتے ہیں۔
(م)قمر ۱۶: ان امور میں خط کا اعتبار اجس طرح عوام میں رائج محض مردود ہے اگر چہ مہر شدہ ہواور کاتب ثقہ اور خط معروف۔
(ش)۱۶/۲۹ :جاہل لوگوں بلکہ بعض اُن مدعیان علم میں بھی جو بزعمِ خود فقیہ العصر وحیدالدہر ہوں، اعتماد خط کا عجیب جوش ہے۔ اپنے کسی معتمد کا خط آگیا اور شہادت شرعی میں کچھ باقی نہ رہا، گویا خط کا ہے کو ہے۔ خاص فلك قمر سے ان پر تفسیر ہلالین نازل ہُوئی، پھر کورے جُہّال کا توکہنا ہی کیا ہے، وہاں خط سے گزر کر تاریخ خط سے استناد ہوتا ہے، حالانکہ علماء فرماتے ہیں خط پر اعتماد نہیں، نہ اس پر عمل ہوکہ خط خط کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع