30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شھر رمضان اذا جاء یوم الخمیس ویوم عرفۃ جاء یوم الخمیس ایضا کان ذٰلك یوم عرفۃ لایوم الضحٰی حتّٰی لا تجوز التضحیۃ فی ھذاالیوم ومایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذلك العام بعینہ دون الابدلان من اوّل یوم رمضان الی غرۃ ذی الحجۃ ثلثۃ اشھر لا یوافق یوم النحر یوم الصوم الا ان یتم شھران من الثلاثہ وینقص الواحد فاذاتمت الشھور الثلاثۃ تأخر عنہ واذانقصت ا لشہور الثلاثۃ او شھران تقدم علیہ فلا یصح الاعتماد علٰی ھذا[1] (خذ) عن الفتاوی الکبری۔ |
جب رمضان المبارك جمعرات کو آیا اور یوم عرفہ بھی جمعرات ہی کو آیا تو اب یہ یومِ عرفہ تو ہوسکتا ہے یوم اضحٰی نہیں ہوسکتا حتی کہ اس دن قربانی جائزنہ ہوگی،اور جو یہ مروی ہے کہ تمہارا یوم نحر تمہارے روزہ کادن ہے یہ ایك معّین سال میں اتفاق ہُوا تھا، نہ کہ دائمی ضابطہ ہے،کیونکہ رمضان کے پہلے دن سے لے کر ذوالحجہ کی ابتداء تك تین ماہ ہیں تو یومِ نحر یومِ صوم کے موافق تب ہی ہوگا جب ان تین ماہ میں سے دو۲ کامل اور ایك ناقص ہو، تو جب تینوں کامل واقع ہُوئے تو یومِ نحر اس سے مؤخر ہوجائے گا، اور اگر تینوں یا دو ناقص واقع ہُوئے تو یومِ نحر اس پر مقدم ہوگا لہذا اس پراعتماد صحیح نہیں۔ یہ فتاوے الکبرٰی کے حوالے سے خزانۃ میں ہے(ت) |
(م) قمر ۱۴: اکثری کہ اگلے رمضان کی نمبر۲۷ پانچویں اس رمضان کی پہلی ہوتی ہے، پر شرع میں اس پر اعتماد نہیں۔
(ش)۱۴/۲۷:سیّدنا امام جعفر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ:
|
خامس رمضان الماضی اوّل رمضان الاٰتی۔[2] |
گزشتہ رمضان کی پانچویں آئندہ رمضان کی پہلی ہے۔(ت) |
بعض علماء نے کہا اس کا پچاس برس تك تجربہ ہُوا، ٹھیك اُترا۔ بعض معاصرین نے لکھا، ۱۲برس سے میں بھی تجربہ کرتا اور درست پاتا ہُوں۔
اقول : مگر فقیر نے ۱۲۹۷ھ سے اب تك کے ۹ رمضانوں میں خیال کیا چند ہی سال میں صاف فرق پڑگیا۔ پانچ برس تك تو حساب ٹھیك تھا اور اس قاعدے کے مطابق رمضان ۱۳۰۱ھ کی پنجم روزیکشنبہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع