30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی بنحو مما اسمع فمن قضیت لہ من حق اخیہ شیأفلا یا خذہ فانما اقطع لہ قطعۃ من نار۔[1]رواہ احمد والستۃ عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲتعالٰی عنھا۔ |
تم میرے حضور اپنے مقدمات پیش کرتے ہو اور شاید تم پر ایك دوسرے سے زیادہ اپنی حجّت بیان کرنے میں تیز زبان ہوتو میں جو سنوں اس پر حکم فرمادُوں پس جس کے لیے میں اُس کے بھائی کے حق سے کچھ حکم کروں وُہ اسے نہ لے کہ یہ تو ایك آگ کا ٹکڑا ہے اس کے لیے قطع کرتا ہوں( اسے امام احمد وائمہ ستّہ نے ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی عنھا سے روایت کیا ہے۔ت) |
علاوہ بریں چاند کا چودھویں کو غروبِ شمس سے پہلے نکلنا اگر چہ اکثر ہے، اور اسی لئے اسے بدر کہتے ہیں مگر، بحساب ہیأت بھی اس کا خلاف ممکن،کما لایخفی علٰی من یعلمہ (جیسا کہ اہلِ علم پر مخفی نہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
(م) قمر ۱۲: غلط ہے کہ ہمیشہ رجب نمبر۲۵کی چوتھی رمضان کی پہلی ہو۔
(ش)۱۲/۲۵: عوام میں مشہور ہے کہ سال میں جس دن رجب کی چوتھی اسی دن آکر رمضان کی پہلی پڑے گی۔ یہ بات محض بے اصل ہے، اس کا شرعی نہ ہونا تو خود ظاہر، تجربہ بھی خلاف پر شاہد۔ بعض دفعہ رجب کی تیسری اور رمضان کی پہلی مطابق ہوئی ہے۔
|
ماھو الرابع من رجب لا یلزم ان یکون غرۃ رمضان بل قد یتفق(بز)[2] |
رجب کی چوتھی کا رمضان کی پہلی ہونا لازم نہیں بلکہ بعض دفعہ اتفاقًا ایسا ہوجاتا ہے(بزازیہ) (ت) |
(م) قمر ۱۳: رمضان کی پہلی نمبر ۲۶ ذی الحجہ کی دسویں ہونا بھی ضروری نہیں۔
(ش)۱۳/۲۶:کہیں مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے بعض آثار میں آگیا کہ تمہارے روزہ کا دن وہی تمہاری قربانی کا دن ہے، یہ اُس سال کا ایك واقعی بیان تھا، نہ کہ ہمیشہ کے لیے حکم شرعی ہو۔ بارہایکم رمضان ودہم ذی الحجہ مختلف پڑتی ہیں، مثلًا یکم رمضان جمعہ کی ہو اور رمضان شوال ذیقعدہ تینوں مہینے ۲۹ کے تو عیداضحی چہار شنبہ کی ہوگی اور دو۲۹ کے تو پنجشنبہ کی، اور تینوں تیس۳۰ کے تو شنبہ کی۔ ہاں دو۲ تیس کے اور ایك ۲۹ کا، توبے شك جمعہ کی پڑے گی۔ پھر یونہی ہوناکیا ضرور ہے!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع