30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لثالثۃ۔[1]رواہ ابوداؤد عن النعمان بن بشیر رضی اﷲتعالٰی عنہما۔ |
حضورسیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھا کرتے جس وقت تیسری رات کاچاند ڈوبتا ہے (اسے ابوداؤد نے نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت) |
پر معاملہ ہلال میں شرعًا اس پر بھی التفات نہیں مثلًا گواہی گزری کہ آج چاند ہوا کل جمعہ کی یکم رمضان ہے اب شنبہ کے بعد جو شب یکشنبہ آئی کہ اس شہادت کی رُو سے تیسری شب تھی، اس میں دیکھا تو چاند مغرب ہی کے وقت عشاء کا وقت آنے سے پہلے ڈوب گیا جس کے سبب گمان ہوتا ہے کہ آج شبِ دوم ہے اس کا کچھ خیال نہ کریں گے اور تیسری ہی رات قرار دیں گے۔ تنبیہ: اقول : وباﷲالتوفیق بے شك اِس شہادت پر عمل میں معاذاﷲ حدیث کی کچھ مخالفت نہیں،بلکہ عین حکمِ حدیث پر چلنا ہے۔ حضور اقدس سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وقتِ عشاء دیکھ کر نماز شروع فرماتے، وہ اس اکثری امر کے سبب غالبًا اس وقت سے موافق پڑتی، یا یُوں سہی کہ زمانہ اقدس میں ہمیشہ ہی مطابق آئی، اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ حضور نے ایك وقت بھی اِس غروبِ قمر پر وقتِ نماز کی بنارکھی ہو نہ کہ اُسے ابدی غیر ممکن الخلف جانتے نہ کہ اس کے سبب امر صوم میں شہادتِ شرعیہ جسے شرع نے مثلِ رؤیت عین قرار دیا روکی جائے۔
|
سئل فیما غاب الہلال باللیلۃ الثالثۃ قبل دخول وقت العشاء ھل یعمل بالشھادۃ ام لا،اجاب، المعمول بہ ما شھدت البینۃ لان الشہادۃ نزلھا الشارع منزلۃ الیقین ولیس فی العمل بالبینۃ مخالفۃ لصلٰوتہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم[2] (ش)عن فتاوی العلامۃ الشھاب الرملی الکبیر الشافعی ملخصا وھذاواضح جدّاعہ وﷲ الحمد۱۲۔ (ح) ۹/۲۳: عــــہ اقول: وبتقریرنا ھذا |
سوال کیا گیا کہ جب تیسری رات کا چاند دخولِ وقتِ عشا سے پہلے غائب ہوجائے تو کیا شہادت پر عمل کیا جائے گا یا نہیں؟ تو جواب یہ دیا کہ اس پر عمل کیا جائیگا جس پر گواہی ہُوئی کیونکہ گواہی کو شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یقین کا مقام قرار دیا ہے اور گواہوں پر عمل کرنا حضورصلی اﷲعلیہ وسلم کی نماز کے مخالف نہیں یہ شامی نے علامہ شہاب رملی الکبیر الشافعی کے فتاوٰی سے ملخصًا نقل کیا ہے اور یہ نہایت ہی واضح ہے، حمد اﷲکے لیے ہے۱۲(ت) اقول: بحمد اﷲ ہماری اس تقریر سے واضح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع