30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روز یکشنبہ کو شام کے وقت ابر تھا، گواہانِ شرعی نے رؤیت بیان کی، صبح کو رمضان ٹھہرا، اب جو گنتی ہوئی آئی تو ۲۹ رمضان دو شنبہ کو طلوع شمس سے پیشتر چاند موجود تھا، اس پر کوئی خیال کرے دوشنبہ کی پہلی ہوئی تو آج ۲۹ کو چاند صبح کے وقت کیونکر نظر آتا، ضرور ہے کہ گواہوں نے غلطی کی شعبان ۳۰ کا ہُوا ، آج ۲۸ ہے ابر ہُوا تو اسی حساب پررمضان کے ۳۰ پُورے ہوں گے، تو یہ خیال محض غلط ہوگا بلکہ وہی دوشنبہ کی ۲۹ ٹھہرے گی او اسی پر بناء احکام رہے گیوالدلیل علی ذلك مع السند قد انطوی فیما قد منا (اور اس پر دلیل مع سند ہماری سابقہ گفتگو میں آچکی ہے۔ت)
(م) قمر۴نمبر ۱۹: دن کو دوپہر سے پہلے چاند جب ہی نظر آتا ہے کہ شبِ گزشتہ ہلال ہوچکا ہو، پر صحیح مذہب میں اس کا بھی لحاظ نہیں۔
(ش) ۴/۱۹: یعنی مثلًا پنجشنبہ ۲۹ شعبان یا ۲۹ رمضان کو ابر تھا رؤیت نہ ہوئی جمعہ کی دوپہر عہ سے پہلے چاند نظر آیا توا گر چہ قیاس یہی چاہتا ہے کہ شبِ جمعہ میں ہلال ہوگیا، ورنہ دوپہر سے پہلے نظر نہ آتا۔ تو آج پہلی ہونی چاہئے ۔مگر صحیح مذہب میں اس کا کچھ لحاظ نہ ہوگا اور آج تیس ہی ٹھہرے گی۔
|
رؤیتہ بالنھار للیلۃ الاٰتیۃ مطلقا علی المذھب ذکرہ الحدادی(ای سواء روی قبل الزوال او بعدہ علی المذھب الذی ھو قول ابی حنیفۃ و محمد[1] (ملخصا)(ش) اوجب الحدیث ای قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ،فوجب فسبق الرؤیۃ علی الصوم و الفطر و المفھوم المتبادر منہ الرؤیۃ عند عشیۃ اٰخرکل شہر عند الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم بخلاف ماقبل الزوال من الثلثین و المختار |
دن کو دیکھا جانے والا چاند مذہب صحیح کے مطابق ہر حال میں آئندہ رات کا شمار ہوگا۔ اسے حدادی نے ذکر کیا مذہب صحیح جو امام اعظم اور امام محمد کا مذہب ہے کے مطابق خواہ زوال سے پہلے دکھائی دے یا زوال کے بعد)(شامی) یہ اس حدیث نبوی علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام سے ثابت ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو، تو اس سے چاند کی رؤیت کا روزے اور عید سے پہلے ہونا ضروری ہے، اس سے متباد دریہی مفہوم ہوتا ہے کہ چاند کی رؤیت جو ہر ماہ کی آخری شام کی ہو،مراد ہے۔یہی صحابہ، تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہلِ علم نے کہاہے، بخلاف تیسویں دن کے ماقبل الزوال دکھائی دینے کے، اور مختار امام اعظم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع