30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثم رؤی لیلۃ الثلاثین بعد الغروب و شھدت بینۃ شرعیۃ بذلك فان الحاکم یحکم برؤیتہ لیلا کما ھو نص الحدیث ولا یلتفت الی قول المنجّمین انہ لا یمکن رؤیتہ صباحًا ثم مساء فی یوم واحد، کیف وقد صرحت ائمۃ المذھب الاربعۃ بان الصحیح انہ لا عبرۃ بقول المنجمین [1]ش ملخصا۔ |
طلوع شمس سے پہلے انیتسویں دن کو چاند دیکھا گیاپھر غروب کے بعد تیسویں رات کو دیکھا گیا اور اس پر شرعی گواہی بھی ہُوئی تو حاکم رات کی رؤیت پر فیصلہ دے جیسا کہ اس پر حدیث میں تصریح ہے اور اہل نجوم کے اس قول کی طرف توجہ نہ کرے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایك ہی دن میں چاند صبح اور شام دکھائی دے، یہ کیوں نہ ہو، حالانکہ ائمہ مذاہب نے تصریح کی ہے کہ صحیح مذہب یہی ہے کہ اہلِ نجوم کے قول کا اعتبار نہیں، شامی ملخصًا(ت) |
(ح)۲/۱۷: عــــہ چاند سورج دونوں کی اپنی چال مغرب سے مشرق کو ہے، اور حرکتِ یومیہ جس کے بسبب طلوع و غروب روزانہ ہوتا ہے مشرق سے مغرب کو تو چاند صبح کے وقت جب ہی نظر آئیگا کہ سورج کے پیچھے ہو یعنی جانب مغرب ہٹا ہوا ہو کہ اگر جانبِ مشرق بڑھا ہوتو آفتاب اس سے پہلے طلوع کرے گا، صبح کے وقت چاند آفتاب سے بھی زیادہ زیرِ زمین اترا ہوگا نظر کیونکرآئے ، اور جب پیچھے ہے توافقِ مشرقی پر سورج سے پہلے چمك آئیگا، آفتاب ہنوز زیرِ زمین ہوگا، تو نظر آسکتا ہے بشرطیکہ ۸ درجے سے کم نہ ہو، ورنہ اتنے قرب میں سورج کی شعاعیں اُسے چُھپالیں گی، نظر کام نہ کرسکے گی۔ اسی طرح شام کو مغرب میں جب ہی نظر آتا ہے کہ سورج کے آگے یعنی جانبِ مشرق بڑھا ہوکہ اگر جانبِ مغرب ہٹا ہوگا تو سورج سے پہلے ڈوب جائے گا، اور جب آگے ہے تو افق غربی پر بعد غروب آفتاب باقی رہے تو نظر آنا ممکن بشرطیکہ آٹھ درجہ سے کم فصل نہ ہو۔ جب یہ بات سمجھ لی تو اگر آج صبح کو نظر بھی آئے پھر شام کو ہلال بھی ہو تو لازم ہے کہ صبح کو آٹھ درجے پیچھے تھا شام کو لااقل آٹھ درجے آگے ہوگیا، چار پہر میں سولہ درجے طے کرگیا، حالانکہ وہ کبھی آٹھ پہر کامل میں بھی اتنا نہیں چلتا اس وجہ سے ہیأت والے اجتماع رؤیتِ صبح و شام کو ناممکن کہتے ہیں، مگر جب ثبوت شرعی ہوتو انکار کا کیا یارا، اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (بلاشبہ اﷲتعالٰی ہر شئی پر قادر ہے۔ت)
(م) قمر۳نمبر ۱۸: انتیس ۲۹ رات کی صبح کو چاند نظر نہیں آتا، شرع اِسے بھی نہیں سنتی۔
(ش) ۳/۱۸: یہ دعوٰی دعوٰی اول سے اخصّ ہے وہاں دو ایك رات بیٹھنا تھا، عام ازیں کہ ۲۹ کو ڈوبے یا ۳۰ کو، یہاں خاص دعوٰی ہے کہ ۲۹ کو ضرور ڈوبتا ہے، شرع میں اس پر بھی لحاظ نہیں۔ مثلًا۲۹ شعبان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع