30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناٹریاں، تو مڑیاں چھوڑیں۔ یہ ممنوع ہے کہ اس میں مسلمانوں کو دھوکا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ جاہلوں نے جو اپنے جاہلانہ مسئلوں سے بے حکمِ حاکم و فتوٰی عالم اپنے نزدیك رؤیت کی خبر ٹھیك جان کر پٹاخہ بازی شروع کردی۔اور یہ بھی زیادہ ناجائز و حرام ہے کہ منصب رفیع شرع پر جرأت ہے۔
|
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم افتوا بغیرعلم فضلّواواضلّوا۔[1]وعنہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اجئر کم علی الفتیا اجئر کم علی النار۔[2]ھذا کلہ ایضًا تفقھًا، ولااظن احد اٰیخالف فیہ۔واﷲالھادی للصواب۔ |
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا فرمان ہے: جو بغیر علم کے فتوٰی دیں گے خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔رسالتمآب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا یہ بھی فرمانِ مبارك ہے: تم میں سے جو فتوٰی دینے میں زیادہ جرأ ت کرے گا وہ جہنم میں جانے میں زیادہ جرأت مند ہوگا۔ یہ تمام بھی بطور استخراج ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ اس میں کوئی مخالفت نہیں کرے گا۔ اﷲ ہی صواب کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے۔(ت) |
(م) نمبر ۱۲:ہلال دیکھ کر اس کی طرف اشارہ نہ کریں۔ (ش) نمبر ۱۲: کہ افعالِ جاہلیت سے ہے،
|
تکرہ الاشارۃ الی الہلال عندرؤیتہ لانّہ فعل اھل الجاھلیۃ[3] (فتح القدیر) |
چاند دیکھنے پر اس کی طرف اشارہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ اہلِ جاہلیت کا عمل ہے (فتح القدیر) (ت) |
(م) نمبر ۱۳: ہلال دیکھ کر منہ پھیرلے۔ (ش)نمبر۱۳:اقول حدیث میں ہے:
|
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کان اذارأی الہلال صرّف وجہہ عنہ۔[4]رواہ ابوداؤد عن قتادۃ مرسلا ولاشواھد و سندہ ثقات۔ |
حضور سیّد عالم صلی ا ﷲتعالٰی علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے اپنا منہ (مبارک) اس کی طرف سے پھیر لیتے۔ اسے ابوداؤد نے حضرت قتادہ سے مرسلًا روایت کیا ہے اور اس کا شاہد کوئی نہیں اور اس کی سند ثقہ ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع