30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فقہ و فتوٰی میں ان پر اعتماد تو ایسا ہے جیسے چور کو پاسبان بنانا۔
(م)نمبر۸:جہاں کوئی عالم بھی نہ ہو مجمع مسلمین مثلًا مسجد جامع وغیرہ میں گواہی دیں۔
|
(ش)نمبر۸: وان لم یوجد حاکم یشھد فی المسجد (جا)[1] جامع الرموز قلت:انما خص المسجد لہ بمحل الاجتماع و انما المقصود الاعلان لیحصل حیثما وجد وامجتمعین کما لایخفی۔ |
اگر حاکم موجود نہ ہو تو وہ مسجد میں گواہی دے (جامع الرموز) قلت: خاص مسجد کا ذکر اس لیے کہ وُہ محلِ اجتماع ہے اور مقصود اعلان ہوتا ہے تاکہ اعلان ایسی جگہ ہوجائے جہاں لوگ جمع ہوں، جیسا کہ مخفی نہیں(ت) |
(م)نمبر ۹:جو بلا عُذر گواہی دینے میں تاخیر کرےگا پھر کہے گا میں نے دیکھا تھا اُس کی گواہی مردود ہوگی۔
(ش)نمبر۹:عذر کی صورت یہ کہ مثلًا شہر میں نہ تھا، دیہات میں دیکھا، وہاں سے اب آیا ہے، تواس کی گواہی سُن لیں گے، اور تاخیر سے وہی مراد کہ وقت حاجت کے بعد پھر نہ اُٹھار کھے ہلال رمضان و عیدالفطر میں پہلی ہی شب ہے۔
|
شھد وافی اٰخررمضان عــــہ برؤیۃ ھلالہ قبل صومھم بیوم ان کانوافی المصر ردّت لترکھم الحسبۃ وان جاء وامن خارج قبلت من الفتح [2](ش) (ح) عــــہ نمبر۹:قولہ فی اٰخر رمضان، اقول من احاط بالدلیل علم ان الاٰخرلیس بقید بل لو شھد وامن غد بعد ما اصبح الناس مفطرین انارأینا الہلال البارحۃ وکانوافی المصر ولاعذر فسقواو ردت شھادتھم لترکھم الحسبۃ وقد علمت ذٰلك من نص العلماء ان الشہادۃ من |
گواہوں نے رمضان کے آخری دن گواہی دی کہ انہوں نے اہلِ شہر کے روزہ شروع کرنے سے ایك دن پہلے چاند دیکھا تھا، اگر وُہ گواہ شہر کے رہنے والے ہوں تو گواہی مسترد ہوگی کیونکہ انہوں نے گواہی میں تاخیر کی ہے اور اگر وُہ خارج شہر سے آئے ہوں تو ان کی گواہی مقبول ہوگی، یہ فتح سے شامی میں ہے۔(ت) قولہ فی اٰخر رمضان ۔اقول: جس شخص نے دلیل کو خُوب جان لیا ہے اس پر واضح ہوگا کہ"الاٰخر"کا لفظ قید نہیں بلکہ اگر انہوں نے اس دن سے دوسرے دن گواہی دی جب لوگ صبح بے روزہ اُٹھے، اُنہوں نے کہا ہم نے گزشتہ رات چاند دیکھا اور وہ شہر کے رہنے والے تھے اور عذر بھی کوئی نہ ہو تو وُہ فاسق قرار پائیں گے ان کی گواہی مسترد ہوگی کیونکہ انہوں نے ذمہ داری کی خلاف ورزی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع