30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المستورففیہ شبھۃ الرویتین[1](ش عن الحلوانی) اقول:واذقد تقررقبول المستور کما سیأتی فارتفع النزاع وقد افاد بمفھوم الشرح ان الفاسق لایجب علیہ ان لم یعلم ذلك وھو الذی افاد(در) عن البزازی ونبہ علیہ(ش)۔ |
گواہی دینا واجب ہے۔ رہا مستورالحال شخص تو اس کے بارے میں دو۲ روایات کا شبہ ہے(ش عن الحلوانی) اقول: جب مستور کے قول کا مقبول ہونا ثابت ہے جیسا کہ عنقریب آرہا ہے تو نزاع ختم ہوگیا اور مفہوم شرح سے یہ واضح ہوا ہے اگر فاسق اس معاملہ کو نہ جانتا ہو تو اس پرگواہی لازم نہیں، یہ وُہ ہے جو(در)نے(بزازی)سے افادہ کی اور اس پر تنبیہ کی (شامی)نے۔(ت) |
پھر وجوب کا سبب یہ ہے کہ اگر دیکھنے والے نے اسی شب گواہی نہ دی تو ہلال رمضان میں صبح کولوگ بے روزہ اٹھیں گے اور ہلال فطر میں روزہ دار۔ اور یہ دونوں ناروا جس کا الزام گواہی نہ دینے والے پر ہوگا۔
|
فان تاخیر الحجۃ عن وقت الحاجۃ اثم، وقد قال تعالٰی وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہٰدَۃَ ؕ وَمَنۡ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ؕ[2] |
کیونکہ ضرورتِ وقت سے گواہی میں تاخیر گناہ ہے، اﷲتعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: گواہی کو مت چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گنہگار ہے۔(ت) |
اقول : مگر ہلال ذی الحجہ میں آٹھویں تك کوئی حاجت ایسی نہیں جو بوجہ تاخیر خلل پذیر ہو۔ بس یُوں معلوم ہوجانا چاہئے کہ فجر عرفہ سے لوگ تکبیر میں مشغول ہوں اور حجاج سامان وقوف کریں،
|
فان اخّرالٰی ھذا فلایؤخّر وقت الحاجۃ ط انما کان الاٰثم بہ، فلیکن التاخیر الٰی ھنا سابعًا ھذا ماقلتہ تفقّھا فلیحرّر۔ |
پس اگر یہاں تك مؤخر کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن وقت حاجت سے مؤخر نہ کرے، ط۔ کیونکہ اس سے گنہ گار ہوگا تویہاں تاخیر سات ذوالحجہ تك ہوسکتی ہے۔ یہ بندہ نے بطور استخراج کہا ہے، اسے محفوظ کیجئے۔(ت) |
(م)نمبر۵: ہلال دیکھنے والے عادل پر مطلقًا اور مستور پر رمضان میں، اور فاسق پر جب سمجھے کہ حاکم میری گواہی مان لے گا، واجب ہے کہ رمضان و عید الفطر میں اسی شب، اور ذی الحجہ میں آٹھویں تك حاکمِ شرع کے پاس حاضر ہوکر رؤیت پر گواہی دے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع