30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدمہ لاھلہ کما نص علیہ حدیثا وفقھا (ورنہ وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل کے لیے عید سے پہلے تیار کیا جیسا کہ اس پر حدیث و فقہ میں تصریح ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: از بریلی مسئولہ ابن سید صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں شام پنجشنبہ کو ابر محیط تھا رؤیت نہ ہوئی مگر دوسرے دن چاند کو قدرے بڑا دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہو کہ شاید کل کا ہو جنتری میں اگر چہ عید اتوار کی لکھی مگرساتھ ہی رؤیت کو مشکوك لکھ دیا ہے ایسی صورت میں شرعًا عید دو شنبہ کی ہونا چاہئے یا اتوار کی،اگر عید قربانی اتوار کو کرلیں تودرست ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :
شرع مطہر میں رؤیت کا اعتبار ہے(خود یہیں دیکھا جائے یا دوسرے شہر کی رؤیت پر شرعی شہادتیں گزریں) حدیث میں فرمایا:ان اﷲامدہ لرؤیتہ[1] (اﷲتعالٰی نے اس کا مدار رؤیت پر رکھا ہے۔ت)خط یا تار یاعقلی قیاسوں یا دوسرے شہر کی حکایتوں کا شرع میں اصلًا اعتبار نہیں مثلًا کچھ لوگ آئے اور بیان کیا کہ وہاں فلاں دن کی عید ہے یا وہاں رؤیت ہوئی اس پر اصلًا لحاظ نہیں جب تك گواہان عادل شرعی خود اپنا دیکھنا نہ بیان کریں ، درمختار میں ہے:
|
لالو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔[2] |
اس صورت میں ثبوت نہیں ہوگا اگر گواہوں نے غیروں کی رؤیت پر گواہی دی ہو کیونکہ یہ حکایت ہے(ت) |
جنتر یوں کا مشکوك لکھنا تو آپ ہی مشکوك و مہمل ہے اگر وُہ یقینی بھی لکھیں توبھی شرع میں اس پر اعتبار نہیں، درمختار میں ہے:
|
لاعبرۃ بقول الموقتین ولوعدولاعلی المذھب۔[3] |
صحیح مذہب کے مطابق نجومیوں کے قول کا اعتبار نہیں اگر چہ وُہ عادل ہوں۔(ت) |
چاند کے بڑے ہونے پر بھی لحاظ ناجائز ہے، حدیث میں فرمایا:
|
اقتراب الساعۃ انتقاخ الاھلۃ۔ [4]رواہ |
قربِ قیامت(کی نشانیوں) میں سے ہے کہ چاند |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع