30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقد ثبت بھا ان اھل تلك البلدۃ صاموایوم کذا لزم العمل بھالان المراد بھا بلدۃ فیھا حاکم شرعی۔ [1] |
جب شہرت، خبر متواتر کے درجہ پر ہو اور شہرت سے یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں اہلِ شہر نے فلاں دن روزہ رکھا ہے تو اس پر عمل لازم ہوگا کیونکہ اس سے مراد وہی شہر ہے جس میں کوئی نہ کوئی حاکمِ شرعی ہوگا(یعنی حاکم کے فیصلہ کے بعد ہی وہاں عمل ہُوا)۔(ت) |
(ردالمحتار میں ہے:
|
فکانت تلك الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور۔[2]) |
وہ شہرت بمعنی حکم مذکور کے منقول ہونے کے ہے۔(ت) |
حاکمِ شرعی سلطانِ اسلام یا قاضی مولی من قبلہ ہے، یا امورِ فقہ میں فقیہ بصیر افقہ بلد، نہ آج کل کے عام مولوی۔ یہی جوابِ سوال نمبر ۳ہے۔ آج کل درسی کتابیں پڑھنے پڑھانے سے آدمی فقہ کے دروازے میں بھی داخل نہیں ہوتا نہ کہ واعظ جسے سوائے طلاقت لسان کوئی لیاقت جہاں درکار نہیں، خصوصًا جبکہ خاص مسائل رؤیت ہلال میں جمیع ائمہ سے تفرد ہو۔
(۲)مولٰی علی سے نہ فرمایا بلالکہ مولٰی علی نے فرمایا کرم اﷲوجہہ، یہ اثر کسی کتابِ حدیث سے نظر میں نہیں، فقہا نے ذکر کیا اور ساتھ ہی فرمادیا کہ یہ اُسی عام(سال)کو تھا نہ عام کو، یعنی اسی سال کے لئے تھا اور سالوں کے لیے نہیں۔ فتاوٰی کبریٰ وخزانۃ المفتین میں ہے:
|
مایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذلك العام بعینہ دون الابد۔[3] |
یہ جو مروی ہے کہ تمہاری قربانی کا دن ہی تمہارے روزے کا دن ہے۔ یہ صرف اسی ایك معین سال کا معاملہ تھا دائمی نہیں۔(ت) |
وجیز کردری میں ہے:
|
مانقل عن علی رضی اﷲتعالٰی عنہ ان یوم اول الصوم یوم النحر لیس بتشریع کلی |
جو حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ روزے کا پہلا دن ہی قربانی کا دن ہے، یہ ضابطہ شرعی کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع