30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاند دیکھا نہ ذی قعد ہ کا، صرف میرے فتوٰی و حکم کے مطابق ایسا ہوامیں نے اپنی تسلّی کے لیے یہ سوالات کئے ہیں ،شامی، قاضیخان، سراجیہ، بحرالرائق، عالمگیریہ، فتح القدیر، کافی میں ثبوت نہیں ملا، اس لئے حضور کو تکلیف دی ۔
(۳) آج کل کے علماء قاضی کے حکم میں ہوں گے یا نہیں؟اور اس کے لیے کیا کیا شرط ہے؟ یہ تمام عالم جس نے درسی کتابیں پڑھ لی ہوں اوردرس یا وعظ میں مشغول ہو۔
(۴) نماز عیدالاضحی کے لیے لوگوں کا چاند دیکھنا یا دوسری جگہ کی رؤیت بطریق موجب ثابت ہونا بایں معنی ضرور ہے کہ جب تك نہ ہوگا اُن لوگوں پر نماز واجب نہ ہوگی یا باوجود رؤیت عامہ بلاد اگر کسی جگہ کے لوگ بوجہ ابر خود نہ دیکھ سکے، نہ دس دن کے اندر کہیں سے کچھ معلومات یقینی بہم پہنچاسکے، حالانکہ جس وقت لوگ اس غفلت سے بیدار ہُوئے تو اس کا موقع تھا کہ طریق موجب کے ذریعہ ثبوت حاصل کرسکتے تھے، مگر ایسا نہ کیا اور باوجود ان سب باتوں کے پھر نماز عیدالاضحی اُس دن جو ہر جگہ ۱۰ذی الحجہ تھی اور اُن کے حساب سے ۹ تھی یہ نماز ہوگی یا نہیں؟ اور قربانی جوکی گئی وُہ ٹھیك ہُوئی یا نہیں ؟بینواتوجروا
الجواب:
(۱) یہ گواہی کہ فلاں شہر والوں نے چاند دیکھا مقبول نہیں اگر چہ شاہد ایك جماعت ہو کہ یہ نہ شہادۃ علی الرؤیۃ نہ شہادت علی الشہادت۔فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
|
لوشھد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذارأواھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذاالیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھؤ لاء الھلال، لا یباح فطر غدولاترك التروایح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شھادۃ غیرھم وانما حکوا رؤیۃ غیرھم۔[1] |
اگر لوگوں کی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں اہلِ شہر نے تم سے ایك دن پہلے رمضان کا چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اوراُن کے حساب سے تیسواں دن ہے لیکن ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تو آئندہ کل وہ عید نہ کریں اور نہ ہی اس رات کی تراویح ترك کریں کیونکہ اس جماعت نے نہ تو چاند دیکھنے پر گواہی دی اور نہ دو سروں کی شہادت پر گواہی دی، اُنہوں نے صرف دوسروں کی رؤیت کی حکایت کی ہے۔(ت) |
استفاضہ کے بعد تحقیق معتبر ہے خاص اس شہر کا جہاں حاکم شرعی ہو کہ اب یہ شہادۃ علی الحکم ہوگی، تنبیہ الغافل الوسنان میں ہے:
|
لما کانت الاستفاضۃ بمنزلۃ الخبر المتواتر و |
جب شہرت، خبر متواتر کے درجہ پر ہو اور شہرت سے یہ |
[1] فتح القدیر فصل فی رؤیۃ الہلال مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۴۳، فتاوٰی عالمگیری الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۹۹، بحرالرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲/۲۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع