30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں بعد عبارت مذکور ہے:
|
وذکرفی المداد انھا فی الصحو کرمضان والفطر ای فلا بد من الجمع العظیم ولم یعزہ لاحد لکن قال الخیرالرملی الظاھرانہ فی الاھلۃ التسعۃ لافرق بین الغیم والصحو فی قبول الرجلین لفقدالعلۃ الموجبۃ لاشتراط الکثیر وھی توجہ الکل طالبین فلو شھدا فی الصحو بھلال شعبان وثبت بشروط الثبوت الشرعی ثبت رمضان بعد ثلثین یومامن شعبان وان کان رمضان فی الصحو لایثبت بخبر ھما لان ثبوتہ حینئذ ضمنی اھ [1]مافی الشامی اقول: فاذا ثبت توجہ الکل طالبین تحقق المانع فلا یقبل تفرد البعض ما لم یتفر دوا بما یقرب الرؤیۃ لھم دون عامۃ الناس فکانت شھادتھم مردودۃ فلایعملوابھا حتی فی انفسھم کما فی الدر رأی مکلف ھلال رمضان او الفطر وردقولہ بدلیل شرعی صام مطلقا وجوبا [2]وفی ردالمحتارو افاد |
امداد میں ہے کہ اگر مطلع صاف ہو(تو باقی ماہ بھی) رمضان اور عیدالفطر کی طرح ہیں یعنی عظیم جماعت کی گواہی ضروری ہے، مگر انہوں نے اس قول کی نسبت کسی کی طرف نہیں کی لیکن خیرالدین رملی نے کہا کہ ظاہر یہی ہے کہ باقی مہینوں میں چاند کے معاملہ میں دو۲ مردوں کی گواہی کی مقبولیت کے لیے ابر آلود اور غیر ابر آلود میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ یہاں وُہ علّت ہی مفقود ہے جو جماعتِ کثیر کیلئے شرط ہے اور وُہ ہے سب کا چاند کو تلاش کرنا، پس اگر دو۲ مردوں نے صاف موسم میں شعبان کے چاند کی گواہی دی اور شعبان کے تیس دن مکمل ہونے پر رمضان کا ثبوت ہوجائے گا اگر چہ صاف موسم میں دو ۲ شخصوں کی گواہی سے رمضان ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اب اس کا ثبوت ضمنًا ہوگااھ (شامی کی عبارت ختم ہوئی) اقول: تو جب سب کا چاند تلاش کرنا ثابت ہوجائے تو مانع کا ثبوت ہوگا لہذا بعض کی گواہی مقبول نہ ہوگی جب تك یہ بعض، عام لوگوں کے مقابلالہ میں چاند کی رؤیت کے قریب (بللند جگہ یا آبادی سے باہر) ہونے میں منفرد نہ ہوں پس ان کی شہادت مردود ہوگی اور اس پر عمل نہیں کیا جائیگا حتی کہ گواہ بھی عمل نہیں کرسکتے جیسا کہ در میں ہے کسی مکلف نے رمضان اور عید الفطر کا چاند دیکھا لیکن اس کا قول دلیل شرعی کی بنا پر رد کردیا گیا تو وُہ وجوبًا روزہ رکھے۔ ردالمحتار میں ہے خیر رملی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع