30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی حل الفطر اھ [1]شامی) ولوصاموابقول عدل لایحل علی المذھب کذاذکرہ المصنف لکن قول الفطر حل اتفاقا وفی الزیلعی الاشبہ ان غم حل والالا اھ [2]وتنقیحہ فی ردالمحتار وماعلقنا علیہ، واﷲتعالٰی اعلم۔ |
میں ہے کہ فتوٰی اسی قول پر ہے ك عیدالفطر جائز ہوگی اھ شامی)او اگر ایك عادل کے قول پر انہوں نے روزہ رکھنا شروع کیا تھا تو صحیح مذہب پر عید کرنا درست نہیں، مصنف نے اسی طرح اسے ذکر کیا ہے لیکن ابن کمال نے ذخیرہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر چاند رات مطلع ابر آلود ہوتو بالاتفاق عید جائز ہے، زیلعی میں ہے کہ مشابہ بالحق یہ ہے کہ اگرمطلع ابر آلود ہوتو عید جائز، ورنہ جائز نہیں اھ اس کی تفصیل ردالمحتار اور اس پر ہمارے حواشی میں ہے، واﷲتعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ۲۰۸: از افضل گڑھ ضلع بجنور مرسلہ یوسف خاں وغیرہ ۲۶رمضان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ چاند شعبان کا اکثر جگہ دیکھا اور بہت سے آدمیوں نے نہیں دیکھا مثلًا قصبہ افضل گڑھ میں تخمینًا پندرہ بیس آدمی اقراری چاند دیکھنے یك شنبہ کے ہیں باقی تمام قصبہ خلاف ہے یعنی باقی نے نہیں دیکھا، اب رمضان شریف میں ابر محیط رہا اُسی بنا پر ۳۰ یوم پُورے کرکے روزہ ہر دو فریق نے رکھا، تھوڑے فریق نے ایك یوم پیشتر اور زیادہ فریق نے ایك روز بعد رکھا، اب عید قریب آگئی اگر ابر محیط ہواتو عید فریق اوّل و دوم کو ایك ساتھ کرنا چاہئے یا علیحدہ علیحدہ پورے روزے کرکے کرنا چاہئے حالانکہ ہر فریق اپنے اپنے روزے پُورے ۳۰ کرے گا، اگر دونوں اتفاق سے عید کرتے ہیں تو ایك فریق کے روزے ۳۰ ہوتے ہیں دوسرے کے ۳۱ ہوتے ہیں، ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے ؟ بینو اتوجروا
الجواب :
اگر اُس کم فریق میں دو۲ مر د یا ایك مرددو۲ عورتیں ثقہ عادل شرعی جو نہ کسی کبیرہ کے مرتکب ہیں نہ صغیرہ پر مُصِر، نہ خفیف الحرکات، اور انہوں نے ہلالِ شعبان شام یك شنبہ کو دیکھ کر وہاں اگر کوئی عالم فقیہ سنی المذہب دین دار ہے اس کے حضور بلفظ اشھد یعنی میں گواہی دیتا ہُوں کہہ کرگواہی دی، یا وہاں ایسا کوئی عالم نہ تھا تو مسلمانوں کو اپنی رؤیت کی خبر دی اور وہاں شامِ یکشنبہ یا تو مطلع صاف نہ تھا یا لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش نہ کی یا کی تو بے وقت کی، یا ان دیکھنے والوں نے جہاں سے دیکھا جگہ بلالند پر یا آبادی سے باہر تھی تو ان صورتوں میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع