30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشھادۃ بان اھل البلدۃ رأواالہلال وصاموالانھا لا تفید الیقین فلذالم تقبل الااذا کانت علی الحکم اوعلی شہادۃ غیرھم لتکون شہادۃ معتبرۃ والافھی مجرد اخبار بخلاف الاسفاضۃ فانھا تفید الیقین۔[1]واﷲتعالٰی اعلم |
اس بات پر گواہی کہ فلاں اہلِ شہر نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے چونکہ مفید یقین نہیں اس لیے گواہی مقبول نہیں، البتہ اس صورت میں جب قاضی کے فیصلہ ہو یا غیر کی گواہی پرگواہ ہوں تاکہ یہ شہادت معتبرہ قرار پائے تو مفید یقین ہے ورنہ یہ محض خبر ہوگی بخلاف استفاضہ، کیونکہ وہ مفید یقین ہوتی ہے،واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۲۰۷: از بہرائچ چوك بازار مرسلہ حافط محمد شفیع صاحب ۲۶ماہ مبارك ۱۳۳۳ھ
رمضان شریف کا چاند غبار یا ابر ہونے کی حالت میں صرف ایك شخص نے دیکھا اور قاضی نے اُس پر فتوٰی چاند ہونے کا دے دیا اب کیا غرہ شوال اُس سے تیس دن پُورے ہوجانے پر ثابت ہوجائے گا گو چاند بوجہ غبار یا ابر کے اُس رات کو نظر نہ آئے یا ایسا ایك سے زائد عادل گواہ ہونے پر کیا جاسکتا ہے ، بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ ہلال ماہ مبارك بوجہ غبار ایك کی شہادت سے مان کر ۳۰ روزے پُورے کئے اور ہلالِ شوال بوجہ ابر نظر نہ آیا تو صحیح یہ ہے کہ بالاتفاق اس صورت میں عید کرلی جائے، ہاں اگر تیس۳۰ روزوں کے بعد مطلع صاف ہُوا اور عید کا چاند نظر نہ آئے اور رمضان کا چاند شاہد واحد کے قول پر مانا تھا تو راجح یہ ہے کہ عید نہ کریں گے اوراگر دو۲ عادلوں کی گواہی سے روزے رکھے تھے توقول ارجح پر ۳۰ کے بعد عید کرلیں گے اگر مطلع صاف ہواور ہلال نظر نہ آئے ،درمختار میں ہے:
|
بعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر۔[2] (اتفاقا ان کانت لیلۃ الحادی والثلثین متغیمۃ وکذا لوکان مصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ و البزازیۃ وفی الفیض الفتوی |
دو۲ عادل آدمیوں کی گواہی پر رمضان کے روزے رکھنے شروع کئے تھے تو ۳۰ روزوں کے بعد عید جائز ہوتی ہے (اتفاقًا اگر اکتیسویں رات ابر آلود ہو اور اگر مطلع صاف ہو پھر بھی درایہ، خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق یہی حکم ہے اور فیض |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع