30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر کیوں علمائے دین نے اسکی بے اعتباری کی تصریح فرمائی ،
|
کمامرنقلہ عن الھندیۃ والفتح ونحوہ فی البحر الرائق والدرالمختار ومجمع الانھر وغیرھا من الاسفار۔ |
جیساکہ ہندیہ اور فتح کے حوالےسے گزرچکا ، اسی طرح بحرالرائق، درمختار، مجمع الانہر اور دیگر کتبِ معتمدہ میں ہے۔(ت) |
بلالکہ وہ استفاضہ جو شرعًا معتبر ہے اُس کے معنی یہ ہیں کہ اُس شہر سے گروہ کے گروہ متعدد جماعتیں آئیں اور سب بالاتفاق یك زبان بیان کریں کہ وہاں فلاں شب چاند دیکھ کر لوگوں نے روزہ رکھا یہاں تك کہ اُن کی خبر پر یقین شرعی حاصل ہو۔ردالمحتار میں ہے:
|
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلك البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلك البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ لامجرد الشیوع من غیرعلم بمن اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھاسائر اھل البلدۃ ولا یعلم من اشاعھا کما وردان فی اٰخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ فیتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالا ینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ (قلت) وھو کلام حسن ویشیرالیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لایوجدبمجرد الشیوع۔[1] |
شیخ رحمتی نے فرمایا: شہرت کامفہوم یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور تمام اس بات کی اطلاع دیں کہ وہاں کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو، جیسا کہ بعض اوقات بہت سی باتیں شہر میں پھیل جاتی ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے ہوتے کہ انہیں کس نے پھیلایا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں شیطان لوگوں کے درمیان آکر بیٹھے گا اور وہ کچھ گفتگو کرے گا تو لوگ وہ گفتگوبیان توکریں گے مگر کہیں گے ہمیں علم نہیں کہ یہ بات کس نے کی ہے، ایسی بات تو قابلِ سماعت ہی نہیں ہوتی چہ جائیکہ اس سے حکم ثابت ہواھ(میں کہتا ہوں) یہ کلام نہایت ہی خوبصورت ہے اور ذخیرہ کا یہ قول کہ"جب خبر مشہور و متحقق ہوتو تب لازم ہے ورنہ محض شہرت ثبوت نہیں ہوتا"بھی اسی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع