30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولٰئِك بطریق موجب حتی لو شھد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذا رأوا ھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھٰؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا ترك التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لہم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانما حکوارؤیۃ غیرھم۔[1] |
تاخیر سے چاند دیکھنے والوں پر روزہ تب لازم ہوگاجب ان کے ہاں چاند کا ثبوت بطریق موجب شرعی ہو حتی کہ اگر کسی جماعت نے گواہی د ی کہ فلاں اہل شہر نے تم سے پہلے ایك دن چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا ہے اور یہ دن ان کے حساب سے تیسواں بنتا ہے، لیکن انہوں نے چاند نہیں دیکھا تو ان کے لیے آئندہ کل عید جائز نہیں اور نہ ہی اس رات کی وُہ تراویح ترك کرسکتے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے چاند کے دیکھنے پر گواہی نہیں دی اور نہ غیرکے چاند دیکھنے کی گواہی پر گواہی دی ہے اُنہوں نے دُوسروں کی رؤیت کو حکایت کیا ہے(ت) |
ہاں اگر رؤیت شہر دیگر کی خبر اُس حدِشہرت واستفاضہ کو پہنچے جو باعثِ ثبوت رؤیت یقینی و محقق ہوجائے تو صحیح یہ ہے کہ اعتبار کریں گے،ردالمحتار میں ہے:
|
فی الذخیرۃ قال شمس الائمۃ الحلوانی الصحیح من مذھب اصحابنا ان الخبر اذا استفاض وتحقق فیما بین اھل البلدۃ الاخری یلزمھم حکم ھذہ البلدۃ اھ ومثلہ فی الشرنبلالیۃ عن المغنی۔[2] |
ذخیرہ میں ہے کہ شمس الائمہ حلوانی نے کہا ہمارے احناف کا صحیح مذہب یہی ہے کہ جب دوسرے شہر میں خبر مشہور و متحقق ہوتو تب ان پر اس شہر کا حکم لازم ہوگااھ شرنبلالیہ میں المغنی کے حوالے سے اسی طرح ہے۔(ت) |
مگر حاشا مجرد شیوع و شہرت کافی نہیں کہ صدہا خبریں خصوصًا آج کل ایسی اڑتی ہیں جن کاتمام شہر میں چر چا ہوتا ہے، پھر تجربہ گواہ ہے کہ بعد تنقیح محض بے اصل نکلتی ہیں انہیں افواہ کہتے ہیں، نہ استفاضہ شرعیہ، ولہٰذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایسا چرچا محض نا معتبر جب تك ثبوت شرعی نہ ہو، اختیار شرح مختار میں یوم الشك کی نسبت لکھا:
|
ذٰلك بان یتحدث الناس بالرؤیۃ ولا تثبت۔[3] |
وہ یہ ہے کہ لوگوں میں رؤیت کاچرچا ہومگر ثبوت نہ ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع