30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سات۷ہیں:
یکم حکایتِ رؤیت : یعنی کچھ لوگ کہیں سے آئے اور خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند دیکھا گیا وہاں کے حساب سے آج تاریخ یہ ہے ظاہرہے کہ یہ نہ شہادت رؤیت ہے کہ اُنہوں نے خود نہ دیکھا،نہ شہادت علی الشہادت کہ دیکھنے والے ان کے سامنے گواہی دیتے اور انہیں اپنی گواہیوں کا حامل بناتے اور یہ حسبِ قواعدِ شرعیہ یہاں شہادت دیتے بلکہ مجرد حکایت جس کا شرع میں اصلًا اعتبار نہیں اگر چہ یہ لوگ بھی ثقہ معتمد ہوں اور جن کا دیکھنا بیان کریں وُہ بھی ثقہ مستند ہوں نہ کہ جہال، جہال میں تو یہ رائج ہے کہ کوئی آئے، کیسا ہی آئے، کسی کے دیکھنے کی خبر لائے اگر چہ خود اُس کا نام بھی نہ بتائے بلکہ سِرے سے اُس سے واقف ہی نہ ہو، ایسی مہمل خبروں پر اعتماد کر لیتے ہیں۔ فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیریہ وغیرہا میں ہے :
|
لو شہد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذارأواھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھٰؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا تترك التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانما حکوارؤیۃ غیرھم۔[1] |
اگر کسی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے لوگوں نے تم سے ایك دن پہلے چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا ہے اور یہ دن اُن کے حساب سے تیسواں بنتا ہواور ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تھا تو ان کے لیے آئندہ دن افطار کی اجازت نہیں اور نہ یہ اس رات تراویح چھوڑسکتے ہیں کیونکہ گواہوں نے نہ تو رؤیت پر گواہی دی اور نہ غیر کی رؤیت پر شہادت دی بلکہ انہوں نے رؤیت غیر کی حکایت کی ہے(ت) |
دوم افواہ: شہرمیں خبر اُڑ جاتی ہے کہ فلاں جگہ چاند ہُوا، جاہل اسے تواتر واستفاضہ سمجھ لیتے ہیں حالانکہ جس سے پوچھئے سُنی ہُوئی کہتا ہے، ٹھیك پتا کوئی نہیں دیتا، یا منتہائے سند صرف دو ایك شخص ہوتے ہیں اسے استفاضہ سمجھ لینا محض جہالت ہے، اُس کی صورتیں وُہ ہیں جو ہم نے طریق پنجم میں ذکر کیں۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں ہے :
|
اعلم ان ا لامراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی بلدۃ التی لم یثبت بھا، لا مجرد الاستفاضۃ لانھا قد تکون مبینۃ علی اخبار رجل واحد مثلا فیشیع الخبر عنہ ولا شك ان ھذا |
واضح ہوکہ شہرت سے مراد چاند ہونے والے شہر سے دوسرے شہر میں آنے والے لوگوں کی خبر کا تواتر ہے محض شہرت کافی نہیں کیونکہ بعض اوقات کسی ایك آدمی کی خبر کی بناء پر مشہور ہوجاتا ہے اور یہ بلاشُبہ کافی نہ ہوگی کیونکہ فقہاء کا قول یہ ہے کہ |
[1] فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال نورانی کتب خانہ پشاور ١/١٩٩، بحرا لرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢/٢٧٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع