30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شئی لو ظہر انہ رؤی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذٰلك فی حق الاضحیۃ لغیر الحجاج لم ارہ والظاھر نعم لان اختلاف المطالع انما لم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کاوقات الصلٰوۃ یلزم کل قوم العمل بماعندھم فتجزئ الاضحیۃفی الیوم الثالث عشروان کان علٰی رؤیا غیرھم ھو الرابع عشر۔[1] |
کوئی شئی لازم نہ ہوگی، اگر یہ ظاہر ہُوا کہ فلاں شہر میں ایك دن پہلے چاند دیکھا گیا، کیا یہی بات غیر حجّاج کے لیے قربانی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے یا نہیں؟ میرے مطالعہ میں اس کاجواب نہیں آیا لیکن ظاہر یہی ہے کہ معتبر ہے کیونکہ روزہ میں اختلافِ مطالع کا اعتبار اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلاف قربانی کے، اس میں ظاہریہی ہے کہ یہ اوقاتِ نمازکی طرح ہے کہ ہر قوم پر اپنے اپنے وقت کے مطابق لازم ہوگی تو انکی تیرھویں کی قربانی کافی ہوجائے گی اگر چہ غیر کی رؤیت کے مطابق وہ چودہویں ہو۔(ت) |
اقول: مگر صحیح اس کے خلاف ہے کلامِ علماء صاف مطلق و عام اور اس تخصیص میں بوجوہ کلام ،
|
فان رسول اﷲتعالٰی علیہ وسلم علل اسقاط اعتبار الحساب،بانا امۃامیّۃلانکتب ولا نحسب۔[2]کما رواہ الشیخان وابوداؤد و النسائی وغیرھم عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنھما، وھذہ العلۃ تعم الاھلۃ وھذا وان کان خلاف القیاس فلا یمتنع الالحاق بہ دلالۃ وان امتنع قیاسا کما قد نص علیہ العلماء ومنھم العلامۃ الشامی فی نفس ھذاالکتاب، ولا شك ان ذا الحجۃ کالفطر سواء بسواء، |
رسالتمآب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے حساب و کتاب کی اسقاط کی علّت یہ بیان فرمائی کہ ہم امّی لوگ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ، جیساکہ بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی وغیرہ نے حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے اور یہ علّت تمام چاندوں کو شامل ہے اور یہ اگر چہ قیاس کے مخالف ہے لیکن دلالۃً الحاق سے مانع نہیں اگر چہ قیاسًا مانع ہے جیسے کہ اس پر علماء نے تصریح کی ہے اور ان میں سے خود اس کتاب میں امام شامی نے بھی تصریح کی ہے، اور اس میں کوئی شك نہیں کہ ذی الحجہ کا چاند بعینہٖ فطر کے چاند کے مطابق ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع