30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فعل، یلزم علیہ بذٰلك اجرۃ اوبیع او کتابۃ اوطلاق اوعتاق او قتل او قصاص فی مکان او زمان اوصفات فبرھن المشہود علیہ انہ لم یکن ثمہ یومئذ لاتقبل لکن قال المحیط فی الحادی والخمسین ان تواتر عند الناس وعلم الکل عدم کونہ فی ذلك المکان والزمان لاتسمع الدعوی ویقضی بفراغ الذمۃ لانہ یلزم تکذیب الثابت بالضرورۃ۔[1] |
کسی کے خلاف اس کے قول یا فعل پر گواہی دی تو مکان، وقت اورصفات کو بیان سے مدعا علیہ پر الزام ثابت ہوجائے گا۔ جب یہ گواہی اجارہ، بیع ،کتاب،طلاق، عتاق، قتل اور قصاص سے متعلق ہو، اور اگر مشہود علیہ گواہ قائم کرکے ثابت کرے کہ اس دن وہ وہاں موجود نہ تھا تو پھر گواہی مقبول نہ ہوگی۔ لیکن محیط میں مسئلہ ٥١ کے تحت کہا کہ اگر لوگوں سے متواترًا ثابت ہو اور ہر کوئی جانتا ہو کہ یہ شخص اس وقت تك اس جگہ موجود نہ تھا تو اب دعوٰی قابلِ سماعت نہ ہوگا اور اسے بری الذمہ قرار دیا جائے گا ورنہ ثابت بالبداہت کی تکذیب لازم آئیگی(ت) |
عقو دالدریہ میں فتاوٰی صغیری سے ہے:
|
البینۃ اذاقامت علی خلاف المشہور المتواتر لاتقبل وھوان یشتھر ویسمع من قوم کثیر لایتصوراجتماعھم علی الکذب۔٢[2] |
جب مشہور متواتر کے خلاف گواہ قائم ہوں تو انکی گواہی مقبول نہیں، مشہور متواتروہُ خبر ہے کہ اتنی کثیر قوم و کثیر لوگوں میں مشہور و مسموع ہوجن کا جُھو ٹا ہونا متصور نہ ہوسکتا ہو۔ (ت) |
کلامِ علماء مثلًاقول مذکور درمختار کے :لو استفاض الخبر فی البلدۃ الاخری ٣[3] (اگر دوسرے شہر میں خبر مشہور ہوجائے۔ت) اور قولِ ذخیرہ:
|
قال شمس الائمۃ الحلوانی الصحیح من مذہب اصحابنا ان الخبر اذااستفاض وتحقق فیما بین اھل البلدۃ الاخری یلزمھم حکم ھذہ البلدۃ اھ٤[4] وغیر ذٰلک۔ |
شمس الائمہ حلوائی نے کہا کہ ہمارے احناف کا صحیح مسلك یہ ہے کہ خبر مشہور متحقق ہوجائے تو اس شہر والوں پر بھی وُہ حکم لازم ہوجاتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع