30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الدعوی و وجھہ العلامۃ الشامی بتوجیھین، لنا فی کل منھما کلام حققناہ فیما علیہ علقناہ فراجعہ ثمہ فانہ من الفوائد المھمۃ۔ |
کے تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اور علامہ شامی نے اس کی دو٢ توجیہات بیان کی ہیں ان میں سے ہرایك پر ہمیں کلام ہے، اس کی پوری تفصیل ہم نے حاشیہ ردالمحتار میں بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں وُہ نہایت ہی اہم ہے(ت) |
طریق چہارم: کتاب القاضی الی القاضی یعنی قاضیِ شرع جسے سلطانِ اسلام نے فصلِ مقدمات کے لئے مقرر کیا ہو اس کے سامنے شرعی گواہی گزری اُس نے دوسرے شہر کے قاضیِ شرع کے نام خط لکھا کہ میرے سامنے اس مضمون پر شہادتِ شرعیہ قائم ہُوئی اور اُس خط میں اپنا اور مکتوب الیہ کا نام و نشان پُورا لکھا جس سے امتیاز کافی واقع ہو اور وُہ خط دو٢ گواہانِ عادل کے سپرد کیا کہ یہ میرا خط قاضیِ فلاں شہر کے نام ہے وُ ہ باحتیاط اس قاضی کے پاس لائے اور شہادت ادا کی آپ کے نام یہ خط فلاں قاضی فلاں شہر نے ہم کو دیا اور ہمیں گواہ کیا کہ یہ خط اس کا ہے اب یہ قاضی اگر اُس شہادت کو اپنے مذہب کے مطابق ثبوت کے لیے کافی سمجھے تو اس پر عمل کرسکتا ہے(اور بہتر یہ ہے کہ قاضی کا تب خط لکھ کر ان گواہوں کو سُنا دے یا اس کا مضمون بتادے اور خط بند کرکے اُن کے سامنے سر بمہر کردے، اور اولٰی یہ کہ اُس کا مضمون ایك کُھلے ہُوئے پرچے پر الگ لکھ کر بھی ان شہود کو دے دے کہ اُسے یا د کرتے رہیں یہ آکر مضمون پر بھی گواہی دیں کہ خط میں یہ لکھا ہے اور سر بمہر خط اس قاضی کے حوالہ کریں یہ زیادہ احتیاط کے لیے ہے ورنہ خیر اُسی قدر کافی ہے کہ دو٢مردوں یا ایك مرد دو٢ عورتیں عادل کو خط سپرد کرکے گواہ کرلے اور وُہ باحتیاط یہاں لاکر شہادت دیں)بغیر اس کے اگر خط ڈاك میں ڈال دیا یا اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیا تو ہرگز مقبول نہیں اگر چہ وُہ خط اُسی قاضی کا معلوم ہوتا ہو اور اس پر اس کی اور اس کے محکمہ قضا کی مہر بھی لگی ہو(اور یہ بھی ضرور ہے کہ جب تك یہ خط قاضی مکتوب الیہ کو پہنچے اور وہ اُسے پڑھ لے اُس وقت تك کاتب زندہ رہے اور معزول نہ ہو ورنہ اگر خط پڑھے جانے سے پہلے مرگیا یا برخاست ہوگیا تو اس پر عمل نہ ہوگا اور بحالتِ زندگی یہ بھی ضرور ہے کہ جب تك مکتوب الیہ اس خط کے مطابق حکم نہ کرلے اُس وقت تك کاتب عہدہ قضا کا اہل رہے ورنہ اگر حکم سے پہلے کاتب مثلًامجنوں یا مرتد یا اندھا ہوگیا تو بھی خط بیکار ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے :
|
القاضی یکتب الی القاضی بحکمہ وان لم یکن الخصم حاضر الم یحکم وکتب الشھادۃ لیحکم المکتوب الیہ بھا علی رائہ وقرأالکتاب علیھم اوا علمھم بہ |
ایك قاضی دوسرے قاضی کی طرف حکم نامہ لکھے ، اگر خصم حاضر نہ ہو تو قاضی فیصلہ نہ کرے اور گواہی لکھ لے تاکہ قاضی مکتوب الیہ گواہی کے ذریعے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ صادر کردے اور قاضی کاتب خط مذکور کو شہود پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع