30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بذٰلك اھ١ [1]مختصرا۔ |
گواہ اگر چہ عورت کی گواہی پر پورا نصاب شہادۃ ہو یعنی دو مرد یا ایك مرد دو٢ عورتیں گواہی دیں، ہاں یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ اصل کے دو دو جُدا گانہ گواہوں اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ گواہِ اصل گواہِ فرع سے اگر چہ وہ اس کا بیٹا ہو خطاب کرکے کہے تو میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں یہ گواہی دیتا ہُوں اور گواہِ فرع یُوں ادائے شہادت کرے کہ میں گواہی دیتا ہُوں کہ فلاں نے مجھے اپنی گواہی پر گواہ کیا اور مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا۔اھ مختصرًا۔ |
اُسی کے بیان ہلال رمضان میں ہے:
|
وتقبل شہادۃ واحد علی اٰخر کعبد وانثی ولو علٰی مثلھما۔[2] |
ایك کی گواہی دوسرے پر مثلًا غلام یا عورت کی شہادت اگر چہ اپنی ہی جیسے پر ہلالِ رمضان میں مقبول ہے جبکہ ایك کی گواہی وہاں مسموع ہونے کے قابل ہوجیسے بحالت ناصافی مطلع۔ |
ردالمحتار میں ہے:
|
لو شھدا علٰی شہادۃ رجل واحد ھما یشھد بنفسہ ایضالم یجز کذا فی المحیط السرخسی فتاوی الھندیۃ ولو شھد واحد علی شھادۃ نفسہ وآخران علی شہادۃ غیرہ یصح وصرح بہ فی البزازیۃ اھ [3] مختصرا |
اگر دو گواہوں نے ایك مرد کی شہادت پر شہادت کی اور اُن میں ایك خود بذاتہ گواہ ہے تو یہ جائز نہیں، ایسا ہی فتاوٰی عالمگیری میں محیط امام سرخسی سے ہے اور اگر ایك نے خود گواہی دی اور دوسرے دو٢ نے اور شخص کی شہادت پر شہادت ادا کی تو یہ درست ہے، بزازیہ میں اس کی تصریح ہے۱۲ |
فتاوٰی عٰلمگیریہ میں ذخیرہ سے ہے:
|
ینبغی ان یذکر الفرع اسم الشاھد الاصل واسم ابیہ وجدّہ حتی لوترك ذلك فالقاضی لا یقبل شہادتھما کذا فی الذخیرۃ۔[4] |
گواہِ فرع کو چاہئے کہ گواہ اصل اور اس کے باپ اور دادا سب کا نام ذکر کرے یہاں تك کہ اسے چھوڑدے گا توحاکم اس کی گواہی قبول نہ کرے گا کذافی الذخیرہ۔۱۲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع