30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ظاہر الولوالجیۃ والظھیریۃ یدل علی ان ظاہرالروایۃ ھو اشتراط العدد والعدد یصدق باثنین اھ وفی زماننا مشاھد من تکاسل الناس فلیس فی شھادۃ الاثنین تفرد من بین الجم الغفیر حتی یظھرغلط الشاھد،فانتفت علۃ ظاھرالروایۃ فتعین الافتاء بالروایۃ الاخری،[1] وفی کافی الحاکم الذی ھو جمع کلام محمد فی کتبہ ظاہر الروایۃ وتقبل شھادۃ المسلم و المسلمۃ عد لاکان اوغیر عدل بعد ان یشھد انہ رأی خارج المصر اوانہ رأہ فی المصر وفی المصر علۃ تمنع العامۃ من التساوی فی رؤیتہ اھ ولا منا فاۃ بینھما لان اشتراط الجمع العظیم اذاکان الشاھد من المصر فی مکان غیرمرتفعِ، فالثانیۃ مقیدۃ لاطلاق الاولی بدلیل ان الاولی علل فیھا ردالشہادۃ بان التفرد ظاہر فی الغلط وعلی مافی الثانیۃ لم توجد علۃ الردولھذا قال فی المحیط فلایکون تفردہ بالرؤیۃ خلاف الظاہرالخ[2] قولہ وبقیۃ الشھر التسعۃ لا یقبل فیھا الاشھادۃ رجلین اورجل وامرأتین عدول احرار غیر محدو دین کما فی سائرالاحکام، بحر عن شرح |
بعید از قیاس ہے، اور ولوالجیہ وظہیریہ سے ظاہر ہوتاہے کہ ظاہرالروایۃ میں صرف تعدد گوہان کی شرط ہے اور تعدد دو٢ سے بھی ہوگیا انتہی اور ہمارے زمانے میں لوگوں کاکسل آنکھوں دیکھا ہے تو دو٢ کی گواہی کو یہ نہ کہیں گے کہ جمہور کے خلاف انہی کو کیسے نظر آگیا جس سے گواہ کی غلطی ظاہر ہو تو ظاہر الروایۃ کی وجہ نہ رہی تو اس دوسری روایت پر فتوٰی دینا لازم ہُوا اور کافی حاکم جس میں امام محمد کا تمام کلام،کتب ظاہرالروایۃ کا جمع فرمادیا ہے یُوں ہے کہ رمضان میں ایك مسلمان مرد یا عورت عادل یا مستورا لحال کی گواہی مقبول ہے جبکہ یہ گواہی دے کہ اس نے جنگل میں دیکھا یا شہر میں دیکھا اور کوئی سبب ایسا تھا جس کے باعث اوروں کو نظر نہ آیا انتہی اور ان دونوں روایتوں میں منافات نہیں اس لیےکہ جماعت عظیم کی شرط وہاں ہے کہ گواہ شہر میں غیر مکان بلند پر ہوتو یہ پچھلی روایت اُس پہلی کے اطلاق کی قید بتاتی ہے اور اس پر دلیل یہ کہ پہلی میں ایك کی گواہی نہ ماننے کی وجہ یہ فرمائی کہ تنہا اُس کا دیکھنا غلطی میں ظا ہر ہے اور اُس پچھلی صورت یعنی جبکہ وُہ جنگل میں یا بلند مکان پر تھا وہ رَد کی وجہ نہ پائی گئی اس لیے محیط میں فرمایا کہ اس حالت میں تنہا اُ س کا دیکھنا خلاف ظاہر نہ ہوگا الخ اور باقی نو مہینوں میں مقبول نہ ہوگی مگر گواہی دو٢ مردوں یا ایك مرد دوعورتوں عادل آزاد کی جن پر حدِ قذف نہ لگ چکی ہو جیسے باقی تمام معاملات میں ۔ اسی طرح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع