30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طریقِ اوّل: خود شہادتِ رؤیت یعنی چاند دیکھنے والے کی گواہی، ہلال رمضان مبارك کے لیے ایك ہی مسلمان عاقل، بالغ، غیر فاسق کا مجرد بیان کافی ہے کہ میں نے اس رمضان شریف کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اگر چہ کنیز ہو اگر چہ مستور الحال ہو، جس کی عدالت باطنی معلوم نہیں، ظاہر حال پابندِ شرع ہے اگر چہ اس کا یہ بیان مجلسِ قضاء میں نہ ہو، اگر چہ گواہی دیتا ہُوں نہ کہے، نہ دیکھنے کی کیفیت بیان کرے کہ کہاں سے دیکھا کدھر کو تھا کتنا اونچا تھا وغیر ذٰلک۔ یہ اس صورت میں ہے کہ ٢٩ شعبان کو مطلع صاف نہ ہو، چاند کی جگہ ابر یا غبار ہو، اور بحال صفائی مطلع اگر ویسا ایك شخص جنگل سے آیا یا بلند مکان پر تھا تو بھی ایك ہی کا بیان کافی ہوجائے گا، ورنہ دیکھیں گے کہ وہاں کے مسلمان چاند دیکھنے میں کوشش رکھتے ہیں، بکثرت لوگ متوجہ ہوتے ہیں یا کاہل ہیں دیکھنے کی پروا نہیں، بے پروائی کی صورت میں کم سے کم دودرکار ہوں گے اگر چہ مستور الحال ہوں، ورنہ ایك جماعتِ عظیم چاہئے کہ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرے جس کے بیان سے خوب غلبہ ظن حاصل ہوجائے کہ ضرور چاند ہُوا اگر چہ غلام یا کھلے فساق ہوں،اور اگر کثرت حدِ تواتر کو پہنچ جائے کہ عقل اتنے شخصوں کا غلط خبر پر اتفاق محال جانے توایسی خبر مسلم وکافر سب کی مقبول ہے۔باقی گیارہ ہلالوں کے واسطے مطلقًا ہر حال میں ضرور ہے کہ دو٢مرد عادل یا ایك مرد دو٢ عورتیں عادل آزاد جن کا ظاہری و باطنی حال تحقیق ہو کہ پابند شرع ہیں، قاضی شرع کے حضور لفظ اشھد گواہی دیں یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اس مہینے کا ہلال فلان دن کی شام کو دیکھا اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو مفتی اسلام اُس کا قائم مقام ہے جبکہ تمام اہلِ شہر سے علمِ فقہ میں زائد ہو اُس کے حضور گواہی دیں اور اگر کہیں قاضی و مفتی کوئی نہ ہوتو مجبوری کو اور مسلمانوں کے سامنے ایسے عادل دو٢مرد یا ایك مرد دو٢ عورتوں کا بیان بے لفظ اشھد بھی کافی سمجھاجائے گا، ان گیارہ ہلالوں میں ہمیشہ یہی حکم ہے مگر عیدین میں اگر مطلع صاف ہو اور مسلمان رؤیتِ ہلال میں کاہلی نہ کرتے ہوں اور وہ دو٢ گواہ جنگل یا بلندی سے نہ آئے ہوں تو اس صورت میں وہی جماعتِ عظیم درکار ہے، اسی طرح جہاں اور کسی چاند مثلًا ہلالِ محرم کا عام مسلمان پُورا اہتمام کرتے ہوں تو بحالتِ صفائی مطلع جبکہ شاہدین جنگل یا بلندی سے نہ آئیں تو ظاہرًاجماعت عظیم ہی چاہئے کہ جس وجہ سے اُس کا ایجاب رمضان و عیدین میں کیا گیا تھا یہاں بھی حاصل ہے۔ درمختار میں ہے:
|
قیل بلادعوی وبلا لفظ اشھد وحکم و مجلس قضاء، للصوم مع علۃ کغیم وغبار، خبر عدل او مستورلا فاسق اتفاقا ولوقنّا او انثی بیّن کیفیۃ الرؤیۃ اولا،علی |
ابرو غبار کی حالت میں ہلال رمضان کے لیے ایك عادل یا مستور الحال کی خبر کافی ہے اگر چہ غلام یا عورت ہو رؤیت کی کیفیت بیان کرے خواہ نہ کرے،دعوٰی یا لفظ اشھد یا حکم یا مجلس قاضی کسی کی شرط نہیں مگر فاسق کا بیان بالاتفاق مردود ہے اور عید |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع