30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت معاویہ اوراُن کے روزہ رکھنے پر عمل نہیں کرینگے تو حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما نے فرمایا کہ نہیں کیونکہ اسی طرح حکم کیا ہم کو رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے کہ اپنے اپنے ملك کی رؤیت لازم آتی ہے دوسرے ملك یا علاقہ والوں پر لازم نہیں ہوتی، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جن لوگوں نے روزہ توڑ دیا اور دُوسروں کے روزے قریب آٹھ بجے کے تُڑوادئے بغیر چاند دیکھے، تو اب ٢٩ روزے رکھنے والے کو توبہ کرنا اور روزہ کی قضاء رکھنا چاہئے یا نہیں؟
الجواب:
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ فان غم علیکم فاکملواعدۃ شعبان ثلثین۔[1] |
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو، اگر موسم ابر آلود ہوتوتم پر تیس٣٠ دنوں کا پورا کرنا ضروری ہے(ت) |
روزہ اور افطار دونوں کی بناء حضور نے رؤیت پر رکھی، توخود رؤیت ہو یا دوسری جگہ کی رؤیت کا ثبوت شرعی ہو، اگر چہ دونوں جگہ فاصلہ مشرق ومغرب کاہو، یہی ظاہرالروایۃ ہے اور یہی صحیح و معتمد ہے۔ درمختار وغیرہ میں ہے:
|
یلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت ذلك عندھم رؤیۃ اولٰئك بطریق موجب شرعی ۔٢[2] |
اہل مشرق پر اہلِ مغر ب کی رؤیت کی بنا پر روزہ افطار لازم ہے بشرطیکہ ان کے ہاں چاند کا ثبوت بطریق موجب شرعی ہو۔(ت) |
اس کے ثبو ت کے سات٧ طریقے ہیں جو ہم نے اپنے فتاوٰی میں مفصل بیان کئے، یہ بات کہ ایك دو آدمی گئے اور دوسرے شہر سے خبر لائے کہ وہاں ٢٩کاچاند ہوا،نہ رؤیت ہے، نہ شہادت ہے، نہ شہادت علی الشہادت، نہ شہادت علی الحکم، غرض کوئی طریقہ شرعیہ نہیں محض حکایت ہے، اور وہ دربارہ ہلال اصلًا معتبر نہیں کما نص علیہ فی الدروغیرہ من الاسفار (جیساکہ اس پر دروغیرہ کتب میں تصریح ہے۔ت) اوروں کے روزے تُڑوانے میں یہ مرتکب کبیرہ ہوئے اور وہ روزہ توڑنے والے اور سخت کبیرہ کے مرتکب ہُوئے اور اُن پر قضاء لازم ، اور اُن کو دہلی میں اگر کوئی ثبوتِ شرعی بہم نہ پہنچا تھا تو ان کا جُرم اور اشرہے، اور ان پربھی قضاء لازم، یہ ایسی صورت کا مطلق حکم ہے مگر اس سال کی نسبت کافی شرعی ثبوتوں سے ٢٩دن کا ثابت ہوگیا، لہٰذا قضاء کی حاجت نہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع