30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی تیس تاریخ پیش آیا تھا وہ
دریافت طلب ہے امید کہ جواب باصواب زودتر ارسال فرکر سرفراز و ممتاز فرما کر عندا ﷲماجور
ہوں، بصورتِ فرصت و مہلت حدیث ماخذ و حوالہ کتاب بھی ارشاد فرمادیجئے گا فقط،
زیادہ آفتاب ہدایت تاباں ودرخشاں باد۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ میں جس روز رمضان شریف
کی تیس ٣٠ تاریخ تھی اُسی روز ایك شہر کے مختارکچہری کے آئے اور اُنہوں
نے کہا کہ آج ہم جس شہر سے آئے ہیں وہاں آج عید کی نماز ہوگی، سامان نماز کو ہورہا
تھا، آپ لوگ بھی پڑھیے۔ مختار صاحب مذکور کسی عالم کے فرستادہ میں سے نہ تھے اور
نہ کسی عالم صاحب کا خط لائے تھے اب قطع نظر امورِ خارجہ کے اور اس بات کے کہ
آئندہ کیا متحقق ہوگا، صرف یہ ارشاد ہو کہ اس قصبہ میں ازرُو ئے شریعت کے اس روز
مختار صاحب موصوف کی خبر معتبر تھی یا نہیں اور مختار صاحب کی خبر کا اعتبار کرکے
نمازِ عید کے واسطے فتوٰی دینا صحیح ہوگا یا نہیں، ارشاد فرماکر عنداﷲماجور و
داخلِ حسنات ہوں اور اس قصبہ کا ہندو تار بابُو خبر دیتا تھا کہ تار آیا ہے آج عید
فلاں شہر میں ہوگی، اب تار بابُو کا خبر دینا معتبر تھا یا نہیں؟
الجواب:
دربارہ ہلال خط و تار محض بے اعتبار ، اشباہ والنظائر میں ہے: لا یعتمد علی الخط ولا یعمل بہ[1] (خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے نہ ہی اس پر عمل کیا جائے۔ت)مخبر واحد اور کچہری کے مختار اور وُہ بھی محض حکایت و اخبار کہ دو شاھدِ عدل بھی ایسی حکایت کرتے تو اصلًا معتبر نہ تھی۔ درمختار میں ہے:
|
شھد واانہ شھد عند قاضی مصر کذا شاھد ان برؤیۃ الہلال وقضی بہ و وجد استجماع شرائط الدعوی قضی القاضی بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھد وابہ، لالوشھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔[2] (ملخصًا) |
گواہ کہتے ہیں کہ قاضی مصر کے پاس فلاں دو٢ گواہوں نے فلاں تاریخ کو چاند دیکھنے پر گواہی دی ہے اور وہاں کہ قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا ہے اور شرائطِ دعوٰی ساری کی ساری پائی گئی ہوں تواب قاضی کو جائز ہے ان کی گواہی پر فیصلہ کردے کیونکہ قاضی کی قضا ء حجّت ہے اور اسی پر وہاں کے گواہوں نے گواہی دی ہے۔ ہاں اگر وُہ دوسروں کی رؤیت پر گواہی دیتے تو قبول نہ ہوتی کیونکہ یہ حکایت ہے(ملخصًا)۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع