30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
ما خالف ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لاصحابنا۔[1] |
جو ظاہرالروایت کے خلاف ہو وہ ہمارے احناف کا مذہب نہیں۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
الحکم والفتیابالقول المرجوح جھل وخرق الاجماع۔[2] |
مر جوح قول پر فتوٰی و فیصلہ جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذالم یصحح اویقوّوجہہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھرالروایۃ اذا لم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ اھ[3] ھ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
جیسا کہ امام ابو یوسف کے قول کے باوجود امام محمد کے قول پر جس کی تصحیح نہ کی گئی ہو یا اس کی تقویت بیان نہ کی گئی ہو اور اس سے زیادہ باطل وُہ فتوٰی ہوگا جو ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو جبکہ اس خلاف کی تصحیح نہ کی گئی ہو، اور وُہ فتوٰی جو مرجوع عنہ ہواھ ح،واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت) |
جواب سوال ثانی: صُورت مستفسرہ میں جب وُہ شہادت شرعیہ عادلہ ہوتو ضرور معتبر ہوگی اگر چہ ہلال عید اضحی ہواگرچہ اُن میں مسافت ایك ماہ سے زیادہ ہو، یہی ہمارے ائمہ کا مذہب ہے اور اسی پر فتوٰی اور اس سے عدول باطل وناروا،علّامہ شامی نور قبرہ السامی نے یہاں ظاہر الروایۃ وقول مفتٰی بہ کا معارضہ نہ چاہا بلکہ براہِ بشریت ایك خطائے فکری سے اُسے مختص بہ ہلال صوم و فطر سمجھا،فقط ہلال اضحی کو اُن نصوص سے مخصوص جانا اور یہ لغزشِ نظر تھی کہ اطلاقات بلکہ تنصیصات کتب معتمدہ مذہب کے مقابل اُس کی طرف التفات بھی ناممکن، چہ جائے اعتماد، علامہ ممدوح کا یفھم من کلامھم فرمانا اُسی لغزشِ فکر کے باعث ہے ورنہ وُہ ہرگز ہمارے علماء کے کلام سے مفہوم بلکہ موہوم بھی نہیں اُن کے کلمات عالیات صاف اس مزعوم سے ابا فرمارہے ہیں۔ مولوی لکنھوی صاحب نے نہ صرف اضحی بلکہ صوم و فطر سب میں اختلافِ مطالع معتبر ٹھہر ایا اور ضرور ظاہرالروایۃ اور مفتٰی بہ کا بالقصد معارضہ کیا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع