30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر اُس کا نہ ماننا بربنائے ورودنص ہے کہ:
|
صوموالرؤیتہ وافطرو الرؤیتہ۔[1] |
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر افطار کرو۔(ت) |
مگر یہ علّامہ ممدوح رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کا اپنا خیال ہے جس پر انہوں نے کوئی نقل معتمد پیش نہ کی، نہ کلماتِ علماء اُس کی مساعدت کریں، مسئلہ حج کی بناء،دفعِ حرج شدید پر ہے نہ کہ اختلافِ مطالع پر اور یہاں عدمِ ورودِ نص ماننا بھی صحیح نہیں، خاص دربارہ ذی الحجہ بھی حدیث صریح صحیح سے رؤیت پر تعلیق ثابت ہے اور ظاہر سیاق کلام ماتن و شارح رحمہما اﷲتعالٰی رجوع ضمیر مطلق ثبوت ہلال کی طرف جس میں ذی الحجہ بھی داخل ہے ،نظمِ عبارت یہ ہے:
|
وھلال الاضحٰی وبقیۃالاشھر التسعۃکالفطر علی المذھب ورؤیتہ بالنھار للیلۃ الاٰتیۃ مطلقاعلی المذھب ذکرہ الحدادی، واختلاف المطالع ورؤیتہ نھارا قبل الزوال اوبعدہ غیرمعتبر علٰی ظاھر المذھب، وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی بحر عن الخلاصۃ فیلزم اھل المشرق الخ٢[2] |
عید الاضحی اور باقی نوماہ کاچاند صحیح مذہب پر عیدالفطر کی طرح ہے، جو چاند دن کو نظر آئے ہر حال میں صحیح مذہب پر آنے والی رات کا شمار ہوگا، اسے حدادی نے ذکر کیا، ظاہر مذہب کے مطابق اختلافِ مطالع اور دن کو زوال سے پہلے یا بعد چاند کا نظر آنا غیر معتبر ہے اکثر مشائخ اسی پر ہیں اور اسی پر فتوی ہے، بحر عن الخلاصۃ، لہذامشرق پر لازم ہوگا الخ(ت) |
وہ یہاں احکامِ عامہ کے بیان میں ہیں علی الخصوص اس تصریح کے بعد ذی الحجہ وغیرہ کہ سب مہینوں کے ہلال کا وہی حکم ہے جو رمضان و فطر کے تو عندالتحقیق اگر دوسری جگہ کی رؤیت بطریق شرعی ثابت ہوجائے تو اُسی پر عمل واجب ہوگا،
|
والعبدالضعیف لطف بہ المولی اللطیف ، یرید ان یأتی بھذاالتحقیق الجلیل الشریف ان شاء اﷲ تعالٰی فی تحریر منفصل نفیس۔ |
عبد ضعیف اپنے مولیٰ لطیف کے چاہتا ہے کہ اس پر مستقبل تحریر میں تفصیلًا تحقیق کردے اِن شاء اﷲتعالٰی۔ (ت) |
ورنہ بے تحقیق باتوں پر اس نظرو بحث کی اصلًا گنجائش نہیں، شرعًا نہ ہرگز خط پر عمل،نہ پرچہ اشتہار کوئی چیز ،نہ ایسی مہمل دو ایك تحریروں سے، استفاضہ شرعی حاصل ہوسکے، ایسے طریق کو موجب سمجھ لینا محض خطا وناواقفی اور ایسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع