30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یلزم کا مرجع ہلال صوم وفطر کو قرار دیا،
|
وھذا عبارۃ الشامی قولہ فیلزم فاعلہ ضمیریعود الٰی ثبوت الہلال ای ہلال الصوم اوالفطر۔[1] |
شامی کی عبارت یہ ہے قولہ فیلزم فاعلہ، یہ ضمیر ثبوت ہلال کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی رمضان یا عید کا چاند۔(ت) |
اس قدر چنداں قابلِ انکار نہیں، نہ حج واضحیہ سے نفی لزوم میں نص، ہاں علّامہ شامی نے تصریح فرمائی کہ کلماتِ ائمہ کرام سے حج میں اختلاف مطالع کا معتبر ہونا مفہوم اور استظہار کیا کہ اضحیہ میں یہی معتبر ہونا چاہئے اس تقدیر پر اہلِ عید چار شنبہ کو جمعہ تك قربانی جائز ہوگی اگر چہ منگل والوں کے نزدیك وُہ روزِ چہارم ہو جبکہ مطالع بلدین کا مختلف ہونا وہاں کی رؤیت کو یہاں لازم نہ کرے۔ردالمحتارمیں ہے:
|
تنبیہ: یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئی لوظہر انہ رؤی فی بلدۃ اخرٰی قبلھم بیوم، وھل یقال کذلك فی حق الاضحیۃ لغیرالحجاج لم ارہ، والظاھر نعم لان اختلاف المطالع انمالم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کاوقات الصلٰوۃ یلزم کل قوم العمل بماعند ھم فتجزی الاضحیۃ فی الیوم الثالث عشروان کان علٰی رؤیا غیرھم ھو الرابع عشر۔[2] |
تنبیہ : کتاب الحج میں فقہا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلافِ مطالع کا حج میں اعتبار ہے تو ان حجاج پر کوئی شئی لازم نہ ہوگی ، جب یہ ظاہر ہوجائے کہ دوسرے شہر میں چاند ان سے ایك دن پہلے دیکھا گیا ہے، کیا حجاج کے علاوہ قربانی کے حق میں بھی یہی حکم ہوگا؟ یہ مسئلہ میرے مطالعہ میں نہیں آیا، ہاں ظاہرًا یہی حکم معلوم ہوتا ہے کیونکہ اختلافِ مطالع کا اعتبار صوم (روزہ)اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلاف قربانی کے، تو اس میں ظاہر یہی ہے کہ یہ اوقاتِ نماز کی طرح ہے، ہر قوم پر ان کے اپنے وقت میں نماز لازم ہوگی تو تیسرے دن کی قربانی کفایت کرجائے گی اگر چہ دوسروں کے اعتبار سے وہ چوتھا دن ہو۔(ت) |
اُن کے خیال کا منشایہ ہے کہ طلاق، صلٰوۃ، زکٰوۃ، صوم ، نکاح، عتق، ایمان، سیر، بیع، اجارہ، شفعہ، میراث وغیرہا تمام ابوابِ فقہ میں اختلافِ مطالع بلاشبہ معتبر ہے،ہلالِ صوم و فطر میں اصح التصحیحین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع